BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 April, 2004, 00:00 GMT 05:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی کی حراست پر تشویش

وانا
جنوبی وزیرستان میں ہونے والے فوجی آپریشن میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو بہت دلچسپی تھی
مختلف صحافتی تنظیموں نے پاکستانی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے ایک افغان صحافی کو حراست میں رکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی میگزین ’نیوز ویک’ کے لئے کام کرنے والے سمیع یوسفزئی کو ایک امریکی خاتون صحافی الیزا گرسورڈ کے ہمراہ چھ روز قبل شمالی وزیرستان جاتے ہوئے بنوں کے قریب حراست میں لیا گیا تھا۔

الیزا کو جوکہ ہفت روزہ ’نیویارکر’ کے لئے کام کرتی تھیں خفیہ اداروں نے مختصر مدت کے لئے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا تھا، لیکن ان کے ساتھ سمیع اور اس کے ڈرائیور سلیم خان کو ابھی تک نامعلوم مقام پر رکھا جا رہا ہے۔ الیزا اب واپس امریکہ پہنچ چکی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق الیزا برقعے میں ملبوس تھیں کہ شک پڑنے پر ایک چیک پوسٹ پر سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں حراست میں لے لیا۔ وہ بغیر سرکاری اجازت قبائلی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہیں تھیں۔

الیزا کا کہنا تھا کہ انہیں وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے اس سے قبل جنوبی وزیرستان کا خفیہ دورہ بھی کروایا تھا۔ یہ دورہ انہوں نے سرکاری گاڑی میں کیا تھا۔ لیکن اس امریکی صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ انہیں وانا میں اس سردار کے مکان سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ الیزا بھی القاعدہ کی قبائلی علاقوں میں موجودگی کے بارے میں رپورٹنگ کر رہی تھی۔

بتیس سالہ سمیع اور اس کے ڈرائیور کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہیں ان کی حالت اور مستقبل کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے۔

سمیع اس سے قبل بی بی سی پشتو اور اردو سروس کے علاوہ پاکستانی انگریزی اخبار دی نیوز کے لئے بھی کام کر چکے ہیں۔

پشاور کی صحافتی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹ، حقوق انسانی تنظیم آیچ آر سی پی اور پشاور پریس کلب کے عہدیداروں نے حکومت سے سمیع کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے صحافی کی اگر وہ کسی جرم میں ملوث ہے تو فوری کسی عدالت میں پیشی کا تقاضہ بھی کیا ہے۔

گزشتہ دنوں صوبہ بلوچستان میں بھی دو فرانسیسی صحافیوں اور ان کے پاکستانی ساتھی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ غیرملکی صحافیوں کو تو فوری طور پر رہا کر دیا گیا تھا البتہ پاکستانی کو کئی ماہ تک جیل میں رکھنے کے بعد کچھ عرصہ پہلے عدالت نے ضمانت پر رہا کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد