صحافی دہشتگردی کی عدالت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی صحافیوں کے ساتھ گرفتار ہونے والے پاکستانی اخبار نویس خاور مہدی رضوی اور دیگر دو افراد کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے اور اب ان کے وکیل کے مطابق آئندہ چند روز میں خاور مہدی رضوی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے چیئرمین اور خاور مہدی رضوی کے وکیل ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ پولیس نے چالان گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا ہے اور اب عدالت کے حکم پر خاور مہدی رضوی کو پیش کیا جا ئے گا۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ ان کی پیشی آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ ظہور شاہوانی نے بتایا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم سے منسلک وکلاء کا پینل خاور مہدی رضوی کی طرف سے عدالت میں پیش ہوگا۔ یاد رہے کہ اس وقت خاور مہدی رضوی عدالتی تحویل میں ہیں جبکہ اس مقدمے میں ملوث دونوں فرانسیسی صحافیوں کو جرمانے کی سزا کے بعد ان کے ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ خاور پر ملک کے خلاف سازش اور بغاوت جیسے مقدمے قائم کئے گئے ہیں انہیں سولہ دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں تھا چوبیس جنوری کو خاور اور دیگر دو افراد عبداللہ شاکر اور اللہ نور پر مقدمہ درج کرکے کرائمز برانچ کوئٹہ نے عدالت سے ریمانڈ حاصل کرلیا تھا۔ پولیس کے مطابق خاور اور دیگر دو افراد نے پاکستان کے علاقے قلعہ عبداللہ میں کلی پنکئی کے مقام پر فرانسیسی صحافیوں کو طالبان کے فرضی کیمپ کی عکسبندی میں مدد فراہم کی تھی۔ اس فلم بندی میں عبداللہ شاکر کو طالبان کا کمانڈر دکھایا گیا تھا تیس جنوری کو جب خاور مہدی رضوی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد انہوں نے بتایا تھا کہ فرانسیسی صحافیوں کی طرح وہ اس معاملے میں بالکل اندھیرے میں رہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بے قصور قرار دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||