| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافی کو تلاش کیا جائے: عدالت
پاکستان کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ فرانسیسی صحافیوں کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافی کو تلاش کیا جائے۔ خاور مہدی رضوی کو دسمبر میں دو فرانسیسی صحافیوں کے ساتھ افغانستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ فرانسیسی صحافی طالبان کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کررہے تھے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایک طالبان کمانڈر کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ بعد میں انہیں فرانس واپس بھیج دیا گیا تھا تاہم خاور مہدی کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک لاپتہ پیں۔ کراچی کی عدالت عظمٰی نے حکام سے کہا ہے کہ وہ مہدی کے بارے میں دو دن کے اندر اندر یہ وضاحت دیں کہ وہ کہاں ہیں۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار پال اینڈرسن کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے چند دن بعد خاور مہدی کو سرکاری ٹیلیون پر دکھایا گیا تھا تاہم اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خاور مہدی کے تحفظ کے بارے میں خدشات ظاہر کئے ہیں۔ فرانسیسی صحافییوں مارک ایپسٹائن اور جون پال گیولاٹیو پر الزام تھا کہ وہ بغیر اجازت کوئٹہ اور پاک۔افغان سرحد کے دورے پر گئے تھے اور خاور ان کے ہمراہ تھے۔ خاور مہدی کے بھائی سہیل مہدی رضوی نے عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خاور کو فرانسیسی صحافیوں کے ہمراہ سولہ دسمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد انہیں نہ تو دیکھا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی اطلاع آئی، سوائے اس کے کہ ان کو پاکستانی ٹی وی پر ایف آئی اے کی حراست میں دیکھا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||