| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صحافی لاپتہ
پاکستان سے رہا کئے جانے والے فرانسیسی صحافیوں نے پیرِس میں اپنی آمد پر خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے پاکستانی ساتھی کے بارے میں کسی کو بھی نہیں معلوم کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔ مارک ایپسٹائن اور جون پال گیولاٹیو نے پیرِس کے شارل ڈی گال ہوائی اڈے پر کہا کہ وہ گھر واپس پہنچنے پر خوش ہیں اور ان کے ساتھ پاکستان میں اچھا برتاؤ کیا گیا، لیکن وہ اپنے پاکستانی مترجم خاور مہدی رضوی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایپسٹائن نے کہا کہ ’ہمیں اپنے ساتھی اور دوست خاور مہدی رضوی کے مستقبل کے بارے میں تشویش ہے۔ ہم نے ایک ماہ سے ان کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔‘ ادھر پاکستان میں سندھ ہائی کورٹ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے یہ پتا لگانے کے لئے کہا ہے کہ آیا خاور مہدی کو کسی وفاقی ادارے نے زیر حراست تو نہیں رکھا۔ فرانسیسی صحافی بغیر اجازت کے کوئٹہ اور پاک۔افغان سرحد کے دورے پر گئے تھے اور خاور ان کے ہمراہ تھے۔ سندھ پولیس اور ایف آئی اے نے تحریری بیانات میں کہا ہے کہ خاور مہدی کو نہ تو انہوں نے گرفتار کیا اور نہ ہی وہ ان کی حراست میں ہیں۔ یا بیانات سندھ ہائی کورٹ کے نوٹس کے جواب میں داخل کرائے گئے۔ خاور مہدی کے بھائی سہیل مہدی رضوی نے عدالت میں ایک حلف نامہ داخل کرایا جس میں کہا گیا تھا کہ خاور کو فرانسیسی صحافیوں کے ہمراہ سولہ دسمبر کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد انہیں نہ تو دیکھا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی اطلاع آئی، سوائے اس کے کہ ان کو پاکستانی ٹی وی پر ایف آئی کی حراست میں دیکھا گیا۔ مدعی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے بھائی ’طالبان کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک رپورٹ‘ بنانے کے لئے فرانسیسی صحافیوں کے ہمراہ قندھار گئے تھے۔ واپسی پر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور اب انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق خاور ٹی وی پر کمزور نظر آرہے تھے۔ حالانکہ سندھ پولیس اور ایف آئی اے دونوں نے ہی خاور کو زیر حراست رکھنے سے انکار کیا ہے ، تاہم صحافیوں کی عالمی تنظیم ’رپورٹرز ودآؤٹ فرنٹیرز‘ کا کہنا ہے کہ خود پاکستانی صدر جنرل مشرف اور وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی صحافی کو ’تحقیقات‘ کے لئے حراست میں رکھا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||