BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2004, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتار صحافی کی عدالت میں پیشی

خاور سولہ دسمبر کو اچانک غائب ہو گئے تھے۔
خاور سولہ دسمبر کو اچانک غائب ہو گئے تھے۔
پاکستانی صحافی خاور مہدی رضوی کو منگل کے روز انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے دو درخواستیں پیش کی ہیں جبکہ عدالت کے جج ہاشم کاکڑ نے آئندہ پیشی پانچ مارچ کو مقرر کی جب ان درخواستوں پر بحث کی جائے گی۔

فرانسیسی صحافیوں کے ساتھ گرفتار ہونے والے پاکستانی صحافی خاور مہدی رضوی کے وکیل حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے رضوی کی جانب سے ایک درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کا جواز نہیں بنتا لہذا انہیں اس سے مبرا کیا جائے جبکے دوسری درخواست میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ ایک دستاویزی فلم کی ریکارڈنگ تھی اور یہ سب افغانستان میں ریکارڈ کی گئی ہے لہذا یہاں پاکستان کی عدالت کو اس کا اختیار نہیں ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کرے۔

حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دونوں درخواستوں پر بحث پانچ مارچ کوہوگی۔ انہوں نہ کہا ہے کہ خاور رضوی پر ریاست کے خلاف سرگرمیاں اور بغاوت جیسے مقدمے قائم کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس وقت خاور مہدی رضوی جوڈیشل لاک اپ میں ہے جبکہ دو فرانسیسی صحافیوں کو جرمانے کی سزا کے بعد اپنے ملک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ خاور سولہ دسمبر کو اچانک غائب ہو گئے تھے جب دو فرانسیسی صحافیوں کو کراچی میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد ان کا کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں تھا۔ چوبیس جنوری کو خاور اور دیگر دو افراد عبداللہ شاکر اور اللہ نور پر مقدمہ درج کرکے کرائمز برانچ کوئٹہ نے عدالت سے ریمانڈ حاصل کرلیا تھا

پولیس کے مطابق خاور اور دیگر دو افرا نے پاکستان کے علاقہ قلعہ عبداللہ میں کلی پنکئی کے مقام پر فراسیسی صحافیوں کو طالبان کے فرضی کیمپ کی عکس بندی میں مدد فراہم کی تھی اس فلم بندی میں عبداللہ شاکر کو طالبان کا کمانڈر دکھایا گیا تھا۔ تیس جنوری کو جب خاور مہدی رضوی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا اس کے بعد انھوں نے بتایا تھا کہ فرانسیسی صحافیوں کی طرح وہ اس معاملے میں بالکل اندھیرے میں رہے اور انھوں نے اپنے آپ کو بے قصور قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد