| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صحافی سمیت تین افراد کا ریمانڈ
پاکستانی صحافی خاور مہدی رضوی اور دیگر دو افراد کا پولیس نے منگل کو تین روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا اور ان سے مزید تفتیش جاری رکھی۔ تینوں افراد کو منگل کو جیوڈیشل مجسٹریٹ ہارون آغا کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انھیں تین دن کے ریمانڈ پر کرائمز برانچ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس افسر برکت نے بتایا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور گزشتہ روز خاور مہدی رضوی اور ایک دوسرے فرد کو جائے وقوعہ یعنی ضلع قلعہ عبداللہ میں کلی پنکئی لے جایا گیا تاکہ نشاندہی کی جا سکے۔ اس حو الے سے پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ مزید گرفتاریوں کی توقع بھی ہے اس وقت حساس اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی ویڈیو فلموں کی بنیاد پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس افسران نے بتایا ہے کہ خاور مہدی رضوی اور دیگر دو افراد اللہ نور اور عبداللہ شاکر کرائمز برانچ کی تحویل میں ہیں جہاں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یاد رہے کہ ان تینوں افراد کے خلاف مقدمہ کرائمز برانچ کوئٹہ نے درج کیا ہے جس میں دفعات ایک سو بیس بی، ایک سو چوبیس اے، ایک سو تریپن اے، چار سو سولہ، چار سو انیس اور چونتیس تعزیرات پاکستان شامل ہیں۔ یہ مقدمہ چوبیس جنوری کو صحافی خاور مہدی رضوی اور دیگر دو افراد سید اللہ نور اور عبداللہ شاکر کے خلاف درج کیا گیا ہے جس کے لیے معلومات اور ویڈیو کیسٹس حساس اداروں نے فراہم کی ہیں۔ ماہر قانون ملک عظمت کاسی نے بتایا ہے کہ ان میں ملک کے خلاف سازش اور بغاوت جیسے دفعات شامل ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ان تینوں افراد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے دو فرانسیسی صحافیوں کے ساتھ قلعہ عبداللہ میں کلی پنکئی کے مقام پر کچھ مقامی افراد کے ساتھ مل کر پاکستان کی سر زمین پر فرضی طالبان کا کیمپ ظاہر کر کے جعلی دستاویزی ویڈیو فلم تیار کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عبداللہ شاکر کو طالبان کا کمانڈر دکھایا گیا ہے۔ ان کو فرضی ٹریننگ کیمپ میں طالبان کو تر بیت دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان افراد کے اس فعل سے بین الاقوامی سطح پر حکومت پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے لہذ ا اس بارے میں سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ سے قانونی رہبری حاصل کی گئی اور درج بالا دفعات پر مبنی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ مقدمات فراہم کردہ معلومات اور دو عدد ویڈیو سی ڈی دیکھنے کے بعد درج کیے گئے تھے۔ ان تینوں افراد کو گیارہ دسمبر دو ہزار تین کو دو فرانسیسی صحافیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ فرانسیسی صحافیوں کو ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں پہلے قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی اور بعد میں اپیل پر ان کی قید کی سزا ختم کرکے جرمانہ بڑھا دیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||