BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 May, 2004, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لشکر کشی: گورنر وانا پہنچ گئے

گورنر سرحد وانا میں
گورنر نے قبائلی عمائدین کو غیرملکیوں کے خلاف بے نتیجہ لشکر کشی پر حکومتی تشویش سے آگاہ کیا
گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ جمعہ کے روز خود جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا پہنچے۔

مبصرین کے مطابق ان کے دورے کا بنیادی مقصد قبائلیوں کو ان کی القاعدہ کے مشتبہ غیرملکیوں کے خلاف بے نتیجہ لشکر کشی پر حکومت کی تشویش سے آگاہ کرنا تھا۔

گزشتہ دنوں جنوبی وزیرستان میں مقامی احمدزئی وزیر قبائل نے القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے خلاف لشکر کشی یہ کہہ کر روک دی تھی کہ وہ اس علاقے میں اب موجود نہیں۔

لیکن صدر پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں دوبارہ واضح کیا کہ غیرملکی عسکریت پسند پاک افغان سرحدی علاقے میں اب بھی موجود ہیں۔

ان گنت جِرگوں، لشکر کشی اور فوجی کارروائیوں کے بعد مسئلہ وہیں رکا ہوا نظر آتا ہے جہاں سے دو تین ماہ پہلے شروع ہوا تھا۔

قبائلی مزید کسی کارروائی کو تیار نہیں البتہ حکومت خود کسی نئی فوجی کارروائی کی بجائے قبائلیوں کو ہی استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اِدھر گزشتہ دنوں حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت معافی پانے والے مقامی جنگجو نیک محمد اور اس کے ساتھیوں نے بھی حکومت پر شکئی کے مقام پر ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

دوسری جانب حکومت نیک محمد کو وعدہ خلاف کا مرتکب قرار دے رہی ہے۔

اسی تعطل کا جائزہ لینے اور قبائلیوں کو حکومت کی تشویش اور عدم اطمینان سے آگاہ کرنے کی خاطر گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ جمعہ کے روز خود وانا پہنچے۔

انہوں نے مقامی حکام کے علاوہ قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں اور ان سے اپنا علاقہ القاعدہ کے غیرملکی عناصر سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا۔

گورنر نے قبائلیوں سے پوچھا کہ اگر وہ اپنے آپ کو القاعدہ کے خلاف بے بس پاتے ہیں تو حکومت کو بتائیں حکومت کچھ کرے گی۔

اس کے جواب میں قبائلیوں نے واضح کیا کہ حکومت آئندہ دو روز میں دیکھ لے گی کہ کون بے بس ہے اور کون نہیں۔

اس سے قبل گورنر نے کل شمالی وزیرستان میں ایک جرگے سے خطاب میں واضح کیا کہ اگر قبائلی القاعدہ کے خلاف ناکام رہے تو حکومت خود کارروائی کرے گی۔ لیکن یہ تازہ کارروائی کب کی جا سکتی ہے انہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔

توقع ہے کہ قبائلی لشکر اب کل وانا میں دوبارہ اکھٹا ہوگا اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گا۔

گورنر نے وانا میں ٹی وی بوسٹر اور ریڈیو سٹیشن کے قیام کا اس موقعے پر اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد