BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 June, 2004, 20:49 GMT 01:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی پولیس: اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں

کراچی میں پچھلے ایک ماہ سے جاری پر تشدد واقعات کے بعد آج پولیس میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
پچھلے ایک ماہ سے جاری شہر کے خراب حالات کی عکاسی کرتا ہوا ایک منظر (فائل فوٹو)
کراچی میں پچھلے ایک ماہ سے جاری پر تشدد واقعات کے بعد آج پولیس میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ اسد اشرف ملک سمیت صدر ٹاؤن پولیس آفیسر (ٹی پی او) ثناء اللہ عباسی اور جمشید ٹاؤن کے (ٹی پی او) فیاض قریشی کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس بات کا فیصلہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ علی محمد مہر نے آج پولیس ہیڈ کوارٹر کے دورے کے بعد کیا جہاں انہیں شہر کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

کراچی میں پچھلے ایک ماہ کے دوران جاری پر تشدد واقعات کے بعد اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ پولیس سمیت شہر کی انتظامیہ میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔

سات مئی کو مسجد حیدری میں ہونے والا بم دھماکہ اور چھبیس مئی کو پاک امریکن کلچر سینٹر کے باہر ہونے والے دو بم دھماکے صدر ٹاؤن کی حدود میں ہوئے تھے جبکہ تیئس مئی کو ممتاز عالم دین مفتی نظام الدین شامزئی اور اکتیس مئی کو امام بارگاہ علی رضا میں ہونے والا بم دھماکہ جمشید ٹاؤن کی حدود میں ہوا تھا۔ ان دونوں علاقوں کے پولیس سربراہوں کو ہٹائے جانے کی بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے۔

دو روز پہلے بھی بلدیہ اور لیاقت آباد ٹاؤن کے پولیس سربراہوں کو تبدیل کیا گیا تھا۔

ان دونوں علاقوں میں بارہ مئی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ماضی میں بھی اس طرح کی انتظامی تبدیلیاں اکثر کی جاتی رہیں ہیں جن کا شہر کی صورتحال کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں ان کی جماعت کی مرضی اور مشورے سے کی گئی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ مرکزی اور صوبائی حکومت کا اہم حصہ ہے۔

عام شہری اس طرح کی انتظامی تبدیلیوں سے مطمئن نظر نہیں آتے ہیں اور ڈرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

پچھلے کئی دنوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے نتیجے میں پورا شہر سہما ہوا دکھائی دیتا ہے۔

سڑکوں پر ٹریفک کم ہے اور دفتروں میں حاضری بھی معمول کے مطابق نہیں ہے۔ شہر کے تمام تجارتی اور کاروباری مراکز میں بھی لوگ کم دکھائی دیتے ہیں۔

فیڈرل بی ایریا میں رہنے والی ایک خاتون مہرالنساء کے مطابق ان کے بیٹے جب تک آفس سے گھر واپس نہیں آجاتے انہیں خوف محسوس ہوتا رہتا ہے۔

پولیس میں تبدیلیوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ سب ہوتا رہتا ہے مگر حالات پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ناظم آباد کے شہری ممتاز احمد نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بار کچھ عرصے کا سکون ہوتا ہے اور پھر آگ اور خون کی ہولی شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پچھلے برسوں سے اس شہر میں یہی ہوتا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد