کراچی میں کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز کراچی کی سڑکوں پر کسی ممکنہ ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ گزشتہ روز ممتاز عالم دین مفتی شامزئی کے نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کے بعد شہر میں ہنگامے شروع ہوگئے تھے۔ پیر کے روز بھی شہر میں کئی بازار بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک کم رہی۔ مفتی شامزئی طالبان حامی تھے۔ ان پر اس وقت گولیاں چلائی گئیں جب وہ اتوار کی صبح اپنے گھر سے مدرسہ جا رہے تھے۔ پولیس بالخصوص اہل تشیع کی مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت پر مامور کی گئی ہے۔ چھ جماعتی مذہبی اتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ نے جمعہ کے روز ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایم اے کے ایک سینیئر رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ ایک عالم کے قتل کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا: ’اگر مفتی شامزئی کے قاتل گرفتار نہ ہوئے تو ہم دوسرے اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘ واقعہ کی تحقیقات کے لئے پولیس کی خصوصی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ اب تک کسی نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ عینی شاہدین کے مطابق چھ مسلح افراد نے ان کی کار پر حملہ کیا جس میں مفتی شامزئی ہلاک جبکہ ان کا بیٹا، بھتیجا، محافظ اور ڈرائیور زخمی ہوگئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||