کور کمانڈر کی گاڑی پر حملہ:10 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعرات کو مقامی کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر حملہ ہوا ہے جس سے دس اہلکار ہلاک اور کچھ فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فوجی اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ اس حملے کے فوراً بعد اسی جگہ ایک دھماکہ بھی ہوا جہاں سے کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس دھماکے سے چند افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں دو فوجی، چار پولیس اہلکار اور تین شہری شامل ہیں۔ ایک فوجی ترجمان کرنل محمد ادریس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ یہ حملہ کور کمانڈر کے موٹر کیڈ پر کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کلفٹن برج پر ایسی چند گاڑیاں جو ڈیوٹی پر تھیں، گولیوں کی زد میں آئیں۔ انہوں نے کہاں کہ کور کمانڈر بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے دفتر میں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ کلفٹن برج پر ہوا جو امریکی قونصلیٹ سے چند سو میٹر دور ہے۔ علاقے میں رہنے والوں اور عینی شاہدین نے کہا ہے کہ جونہی کور کمانڈر کا موٹر کیڈ کلفٹن برج پر پہنچا تو اس پر فائرنگ شروع ہوگئی۔ کور کمانڈر کی گاڑی اور اس کے پیچھے آنے والی چند دوسری گاڑیاں فائرنگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئیں۔ لیکن موٹر کیڈ کے پچھلے حصے کی گاڑیاں گولیوں کی زد میں آگئیں۔ فائرنگ کے بعد اسی مقام پر جہاں سے موٹر کیڈ پر فائرنگ ہوئی تھی موٹر سائیکل میں رکھا ہوا ایک بم بھی پھٹا جبکہ ماہرین نے ایک دوسرے بم کو ناکارہ بنا دیا جو بظاہر کلفٹن برج کو دھماکے سے اڑانے کے لئے نصب کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سات زخمیوں کو جناح ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن ان زخمیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا جنہیں نیول ہسپتال داخل کیا گیا ہے۔ فوجی اور پولیس اہلکاروں اور گھات لگا کر حملہ کرنے والوں کی درمیان کئی منٹ ت فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||