BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 April, 2006, 07:49 GMT 12:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی دھماکہ، ایک شخص گرفتار

پولیس اہلکار شہر کے اہم مقامات پر تعینات ہیں
پولیس اہلکار شہر کے اہم مقامات پر تعینات ہیں
کراچی پولیس نے نشتر پارک میں ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو حراست میں لے لیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے ایک زخمی کو حراست میں لینے کی تصدیق کی ہے۔

ادھر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں اب بھی متضاد دعوے کیئے جا رہے ہیں۔حکومتی حکام اس دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے رہے ہیں جبکہ پولیس افسران کی رائے میں تضاد ہے۔ سنی تحریک نے بھی خود کش حملے کے امکانات کو رد کیا ہے۔

کراچی میں جمعرات کی شب میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ تھا اور اس میں ایک شخص کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی و وفاقی ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم اس کی عدالتی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

کراچی شہر میں دھماکے کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

کیپیٹل پولیس افسر نیاز احمد صدیقی پہلے دن سے اسے خودکش حملہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بمبار جلوس کے ساتھ پنڈال میں داخل ہوا اور دھماکے کے وقت نماز کی دوسری صف میں موجود تھا۔ دھماکے کے تفتیشی افسر اور اس سے قبل کئی خودکش حملوں کی تحقیقات کرنے والے ڈی آئی جی تفتیش منظور مغل کا کہنا ہے کہ ابھی تفتیش ہو رہی ہے لہذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حملہ خود کش تھا یا نہیں۔

اس سے قبل سنی تحریک کے رہنماؤں نے کا کہنا تھا کہ صوبائی حکام اس واقعے کو خودکش حملہ قرار دیکر اس کو عالمی دہشت گردی سے جوڑنا چاہتی ہے،جو غلط ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے کہا ہے کہ نشتر پارک بم دھماکے کی تحقیقات کے لیئے جوائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم مقرر کر دی گئی ہے۔ ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت دیگر خفیہ اداروں کے ماہرین شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سنی تحریک نے صوبائی حکومت ہر عدم اطمینان کا اظہار کرتے دھماکے کی تحقیقات ملٹری انٹلی جنس اور آئی ایس آئی سے کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دریں اثناء صوبائی حکومت نے دھماکے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کی نشاندہی پر انعامی رقم پچاس لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑ روپے کر دی ہے۔

اسی بارے میں
یہ کِس کا سر ہے؟
12 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد