کراچی میں احتجاج، لاہور بھی ہڑتال میں شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں منگل کو نشتر پارک میں عیدِ میلاد النبی کے اجتماع میں ہونے والے دھماکے کے بعد ہڑتال اور احتجاج سے کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں کاروبار زندگی شدید متاثر ہوا۔ کراچی میں بدھ کو کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل رہا۔ شہر میں تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور نجی ادارے بند رہے جبکہ شاہراہوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔ مرکزی شہر میں پٹرول پمپ اور سی این جی سٹیشن بھی بند کر دیے گئے تھے۔ جماعت اہل سنت نے بدھ کے روز ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی تھی اور کراچی کی کاروباری تنظیموں نے بھی سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔ سندھ حکومت کی جانب سے بھی سانحے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کے ایک اعلامیے کے مطابق کراچی کے تمام تعلیمی ادارے تین روز تک بند رہیں گے۔ اندرون سندھ میں حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاھ، میرپورخاص اور مٹھی سمیت کئی شہروں میں کاروبار بند اور ٹریفک معطل رہی۔ حیدرآباد میں مظاہرے بھی ہوئے جس میں ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔
لاہور سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے عدنان عادل کے مطابق سندھ کے علاوہ صوبہ پنجاب کے داالحکومت لاہور کی تاجر تنظیموں نے نشتر پارک کراچی کی ہلاکتوں کے سوگ میں جمعرات کو کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انجمن تاجران لاہور اور قومی تاجر اتحاد کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تمام بازار نشتر پارک واقعہ کے سوگ میں بند رکھیں جائیں گے۔ بدھ کو کراچی میں ہلاک ہونے والے کچھ مذہبی رہنماؤں کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ سابق ایم این اے اور جے یو پی کے رہنما حافظ تقی کی نماز جنازہ کلاتھ مارکیٹ کی جامعہ مسجد میں اور جے یو پی کے رہنما حنیف بلو کی نماز جنازہ میمن مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کی تدفین میوہ شاہ قبرستان میں ہوئی۔ سنی تحریک نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے باقی رہنماؤں کی تدفین جمعرات کو ادا کی جائے گی۔
سنی تحریک نے بم دھماکے کو اپنی مرکزی قیادت پر حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی مرکزی قیادت سمیت دس ذمہ داران ہلاک ہوئے ہیں۔ تحریک کی نگران کمیٹی کے رہنماؤں شاہد غوری، قاری خلیل الرحمان اور انجنئیر عبدالرحمان نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی۔ سنی تحریک کے رہنماؤں نے اپنی اخباری کانفرنس میں کہا کہ ان کے قائدین کا قتل تحریک کے بانی سلیم قادری کے قتل کا تسلسل ہے اور اس میں بھی وہ ہی ملوث ہیں ’جن کے خلاف ہم عرصے دراز سے پریس کانفرنس کرتے آئے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس واقعے کو خودکش حملہ قرار دے کر اس کو عالمی دہشتگردی سے جوڑنا چاہتی ہے ’جو غلط ہے۔‘
بدھ کے روز مرنے والوں کی نماز جنازہ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے فوج کو بھی چوکس کردیا گیا تھا۔ جمعہ کو چھ جماعتی مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اس واقعہ پر ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے اس خودکش حملے میں ملوث ملزمان کے بارے میں معلومات دینے پر پچاس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ ، مرکزی حکومت کی جانب سے تین لاکھ اور زخمیوں کے لیے فی کس پچاس پچاس ہزارروپے امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی( تفتیش) منظور مغل نے بتایا کہ اس واقعے میں سینتالیس افراد ہلاک اور نوّے زخمی ہوئے۔ اس سے قبل حکام نے ستاون افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ چھیالیس لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک لاش کا صرف سر ملا ہے جس کے بارے میں کسی نے نہیں پوچھا۔
انہوں نے کہا کہ ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ خودکش بمبار تھا۔ اس سے قبل پولیس نے بتایا تھا کہ انہیں دو ایسی لاشیں ملی ہیں جن کے جسم کے نیچے والے حصے دھماکے سے اڑ چکے ہیں۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ یہ دونوں لاشیں خود کش حملہ آوروں کی ہوسکتی ہیں۔ حکومت نے دھماکے کی تفتیش کے لیئے سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج سے تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ ماضی میں کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات ہوئے ہیں لیکن کئی عشروں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عیدِ میلاد النبی کے اجتماع کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ منگل کا دھماکہ سٹیج کے بہت قریب نمازِ مغرب کے وقت ہوا جب لوگ صفیں باندھ چکے تھے۔منگل کے دھماکوں کے بعد مشتعل ہجوم نے شہر میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔ مشتعل ہجوم نے چار پیٹرول پمپ، فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی کے علاوہ ایک بس اور کئی کاروں کو آگ لگا دی تھی۔ یاد رہے کہ کراچی میں نو اپریل کو عید میلادالنبی کی تقریب کے موقع پر بھی محفل میں بھگدڑ مچ جانے سے انتیس عورتیں اور بچے ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار 12 April, 2006 | پاکستان کراچی: میلاد اجتماع میں دھماکے کی وڈیو11 April, 2006 | پاکستان عید میلاد: دھماکے میں کم از کم ستاون ہلاک11 April, 2006 | پاکستان ’کیمرے کے ساتھ تمہیں بھی توڑ دونگا‘11 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||