کراچی: میلاد اجتماع میں دھماکے کی وڈیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں نشتر پارک میں عیدِ میلاد النبی کے اجتماع میں دھماکے سے کم از کم اڑتالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتاہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہیں۔ صوبۂ سندھ کے پولیس سرجن علی نواز کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اڑتالیس تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کو بتایا تھا کہ مرنے والوں کی کم از کم تعداد چالیس ہے۔ کراچی میں نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا کہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالات ہیں۔ زخمیوں کو لایا جا رہا ہے اور انہیں خون دینے والوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی ہے۔ تاہم ہسپتال کے باہر خون کا عطیہ دینے کی مزید اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک شہر کے مختلف ہسپتالوں میں پینتالیس لاشیں لائی جا چکی ہیں۔ مرنے والوں میں اہلسنت کے ایک ممتاز رہنما حنیف بلو بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں عید میلاد: دھماکے میں کم از کم اڑتالیس ہلاک11 April, 2006 | پاکستان محفلِ میلاد میں بھگدڑ، 29 ہلاک09 April, 2006 | پاکستان ’بچہ گود سے گرا اور بھگدڑ مچ گئی‘09 April, 2006 | پاکستان کراچی: بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم10 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||