عید میلاد: دھماکے میں کم از کم ستاون ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو کراچی میں نشتر پارک میں عیدِ میلاد النبی کے اجتماع میں ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد ستاون ہو گئی ہے۔ کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا ہے کہ حکام نے ستاون لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک سو سے زیادہ سے زیادہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خود کش حملہ آور نے کیا اور اس کو دو ایسی لاشیں ملی ہیں جن کے جسم کے نیچے والے حصے دھماکے سے آڑا چکے ہیں۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ یہ دونوں لاشیں خود کش حملہ آور کی ہو سکتی ہیں۔ دھماکے کے بعد مشتعل ہجوم نے شہر میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ مشتعل ہجوم نے چار پیٹرول پمپوں، فائر برگیڈ کی ایک گاڑی کے علاوہ ایک پرائیوٹ بس اور کئی کاروں کو آگ لگا دی۔ نامہ نگاروں کے مطابق شہر میں حالات اب پہلے سے بہتر ہیں اور رینجرز کی بڑی تعداد شہر میں موجود ہے۔ بدھ کے روز مرنے والوں کی نماز جنازہ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کو بھی چوکس کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے بتایا کہ امکان یہی ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ تاہم تحقیقات کے لیئے سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کو مقرر کیا گیا ہے جو بدھ سے تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔ شیرپاؤ کے مطابق شہر میں رینجرز نے گشت شروع کردیا ہے۔
کراچی میں نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا کہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالات ہیں۔ زخمیوں کو لایا جا رہا ہے اور انہیں خون دینے والوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی ہے۔ تاہم ہسپتال کے باہر خون کا عطیہ دینے کی مزید اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب تک شہر کے مختلف ہسپتالوں میں پینتالیس لاشیں لائی جا چکی ہیں۔ مرنے والوں میں اہلسنت کے ایک ممتاز رہنما حنیف بلو بھی شامل ہیں۔ ایک عینی شاہد حنیف عابد نے بتایا کہ عام طور پر ایسے اجتماعات مغرب کی نماز سے قبل ہی ختم کر دیے جاتے رہے ہیں لیکن اس اجتماع میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اسے مغرب کی نماز کے بعد بھی جاری رکھا جائے گا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق نشتر پارک کا اجتماع بہت بڑا تھا اور اس میں ہزاروں لوگ شریک تھے۔ روایتی طور پر شہر میں شروع ہونے والے عیدِ میلاد کے بہت سے جلوس نشتر پارک میں اختتام پذیر ہوتے ہیں۔
کراچی میں بی بی سی کے ایک اور نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ایم اے جناح روڈ پر چار پیٹرول پمپ جلا دیئے گئے ہیں جبکہ فائر برگیڈ کی ایک گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے کراچی کے دو سینما گھروں میں بھی توڑ پھوڑ کی جبکہ نیشنل پارک میں رینجرز اور پولیس کے کچھ اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔ ماضی میں کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات ہوئے ہیں لیکن کئی عشروں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عیدِ میلا النبی کے اجتماع کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ منگل کا دھماکہ سٹیج کے بہت قریب نمازِ مغرب کے وقت ہوا جب لوگ صفیں باندھ چکے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ لوگ دھماکے کی وجہ سے بہت مشتعل ہیں اور انہوں نے کچھ دیر کے لیئے ہسپتال کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ کراچی میں نو اپریل کو عید میلادالنبی کے موقع پر میلاد کی محفل میں بھگدڑ مچ جانے سے انتیس عورتیں اور بچے ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔ خبررساں ادارے رائٹرز نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد کچھ مسلح نوجوانوں نے پیٹرول سٹیشنوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔انہوں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں پر فائرنگ بھی کی جو نشتر پارک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ رائٹرز کے مطابق ایک ستر سالہ عبادت گزار محمد احتشام کا کہنا تھا: ’دھماکے سے زمین تھرا تھرا کر رہ گئی۔ ایسے لگتا تھا جیسے قیامتِ صغرا بپا ہوگئی ہو۔‘ دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان علی ناصر نے بتایا: ’ہم لوگ اپنی نماز بس ختم کرنے کو تھے کہ اچانک دھماکہ ہوگیا۔ یہ بہت ہی سخت دھماکہ تھا۔‘ کراچی پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل منظور مغل نے رائٹرز کو بتایا: ’یہ دھماکہ دہشت گردی کا نتیجہ ہے۔‘ سندھ کے وزیرِ داخلہ رؤف صدیقی کا کہنا تھا: ’اس بات کا بہت امکان ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ ہے۔ ہم پہلے ہی سے الرٹ پر تھے۔‘ |
اسی بارے میں کراچی: بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم10 April, 2006 | پاکستان کراچی مسجد میں دھماکہ:15ہلاک07 May, 2004 | صفحۂ اول کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک15 November, 2005 | پاکستان کراچی میں بم دھماکہ15 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||