کراچی: بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے فیضان مدینہ مسجد میں محفلِ میلاد کے بعد مچنے والی بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ کراچی کے مرکزی علاقے سبزی منڈی کے قریب واقع فیضان مدینہ مسجد میں اتوار کی شام خواتین کی محفلِ میلاد کے اختتام پر باہر نکلنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی تھی جس میں 29 خواتین اور بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ سندھ کےگورنر عشرت العباد نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ ان واقعات سے نمٹنے کے لیئے حکمت عملی وضع کی جائے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے لیئے ایک ایک لاکھ اور زخمیوں کے لیئے تیس تیس ہزار روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب واقعہ پیش آنے کے بعد رضاکاروں کو برقعہ پوش خواتین کو ہسپتال پہنچانے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضکار رضوان ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر فوری طبی امداد مل جاتی تو کافی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی ہماری ایمبولینس اور رضاکار پہنچے تو فیضان مدینہ کے گارڈوں نے انہیں روک دیا اور کہا کہ ’یہ پردے دار خواتین اور نامحرم ہیں۔انہیں ہاتھ نہ لگایا جائے‘۔ رضوان ایدھی کا کہنا تھا کہ اس وقت پردے سے زیادہ زخمی خواتین کو ہسپتال پہنچانا ضروری تھا، ہر کوئی چّلا رہا تھا مگر ہمیں روک دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں دیگر خواتین نے زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ایمبولینس میں رکھا جس کے بعد ہم انہیں ہسپتال لےگئے۔ رضوان ایدھی نے بتایا کہ شہر کی مرکزی شاہراہ جشن عید میلاد النبی کے جلوس کی وجہ سے بند تھی اس لیئے سول ہسپتال اور ٹاور سے ایمبولینس فوری طور پر نہیں پہنچ سکیں اور انہیں ایک بڑا چکر لگا کر آنا پڑا۔ | اسی بارے میں ’بچہ گود سے گرا اور بھگدڑ مچ گئی‘09 April, 2006 | پاکستان محفلِ میلاد میں بھگدڑ، 29 ہلاک09 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||