BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یہ کِس کا سر ہے؟

رینجرز
دھماکے کے بعد لوگوں نے سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کےخلاف شدید غصے کا اظہار کیا
کراچی پولیس کو ایک انسانی سر کے ورثاء کی تلاش ہے جو نشتر پارک میں بم دھماکےکی جگہ سے ملا تھا۔

سر کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ خودکش بمبار کا ہوسکتا ہے۔

حکومت کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ڈی آئی جی منظور مغل نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے چھیالیس افراد کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ ابھی تک ایک سر کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ واضح طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خودکش بمبار ہے۔
منظور مغل نے بتایا کہ ’ہم معلوم کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ کون تھا؟ کہاں کا رہنے والا تھا اور جلسے میں اس کے ساتھ کون تھا؟‘

انہوں نے بتایا کہ پولیس ہر رخ سے اس دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہے۔منظور مغل نے اس موقع پر نامعلوم شخص کے سر کی تصویر بھی دکھائی، جو تیس بتیس سال کا نوجوان ہے اور اس کے چہرے پر داڑھی موجود ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار سالوں میں کراچی میں پانچ ایسے حملے ہوئے ہیں جنہیں خود کش حملے قرار دیا گیا اور اور نشتر پارک میں ہونے والا دھماکہ کے بارے میں بھی ایسا ہی شبہہ ہے۔

اس سے قبل مئی دو ہزار تین کو شیرٹن ہوٹل کے باہر حملہ کیا گیا تھا، جس میں فرانس کے شہریوں سمیت ترپن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دو ہزار چار میں مئی کے مہینے میں دو مساجد پر حملے ہوئے تھے جن میں انتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔گزشتہ ایک سال کے عرصے میں دو خودکش حملے ہوئے ہیں جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

گزشتہ سال ہی امام بارگاہ مدینتہ العلم میں خودکش حملہ ہوا تھا، جس کے بمبار کا بھی سر ملا تھا مگر اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اس طرح رواں سال مارچ میں امریکی قونصلیٹ کے قریب خودکش بم حملہ ہوا جس کے حملہ آور کا بھی تاحال پولیس اور ایف بی آئی کوئی پتہ نہیں لگا سکی ہے۔

ڈی آئی جی منظور مغل کا کہنا ہے کہ امریکی قونصلیٹ کے قریب دھماکے کے بمبار کا تو واضح خاکہ نہیں تھا مگر نشتر پارک کے دھماکے میں سر ملا ہے۔
اس دھماکے کے بعد پولیس کی تحقیقات کا رخ ایک اور خودکش حملے کی طرف ہوجائے گا۔

خودکش حملے قرار دینے کے بعد کیس ’بلائینڈ‘ ہوجاتا ہے اور پولیس یہ کہنا شروع کردیتی ہے کہ اس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد