’عوام کے زخموں پر پھایہ کون رکھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے نشتر پارک میں عید میلاد النبی کے موقع پر منگل کی نماز مغرب کے وقت ہونے والے جلسے میں دھماکے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں نے عام آدمی کو ایک بار پھر دہلا دیا ہے۔ کراچی میں اجتماعی ہلاکتوں کا یہ واقعہ کن مقاصد کے حصول کے لیئے رونما ہوا، یہ تو حکومت کبھی نہیں بتا سکے گی۔ پولیس کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے وابستہ ایک درجن سے زائد انٹیلیجنس اداروں کے سینکڑوں اہلکار مصروف عمل رہتے ہیں مگر ان کی ناکامی بار بار اس وقت سامنے آتی ہے جب اس قسم کے سانحات رونما ہوتے ہیں۔ خصوصی مراعات یافتہ انٹیلیجنس کے ان بااختیار اور اعلی ترین حکمرانوں تک رسائی رکھنے والے ان اداروں کے اہلکاروں نے اب تک شاید ہی کوئی ایسی اطلاع فراہم کی ہو جس کے نتیجے میں ایسے واقعات کی بر وقت روک تھام کی جا سکی ہو جن میں ہلاکتیں آئے دن کا معمول بن گئی ہیں۔ البتہ خفیہ ایجنسیوں کے یہ کارندے سیاسی رہنماؤں کا سائے کی طرح پیچھا کرتے ہیں اور نتیجے میں بلوچ رہنما اختر مینگل کے ساتھ پیش آنے والا واقعے جیسے واقعات اکثر رونما ہو جاتے ہیں۔ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی ہر سانحے کے بعد دو، تین قسم کے اعلانات کر کے سمجھتی ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری نبھا دی ہے۔ صدر سے لے کر صوبائی وزراء تک عوام کے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے یہ جھوٹی تسلی دیتے ہیں کہ تحقیقات کی جائیں گی اور واقعہ کے مرتکب افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائےگا۔ تحقیقات کا اعلان بھی اکثر رسمی ہی ہوتا ہے کیونکہ ان کے نتائج کا کبھی باضابطہ اعلان کرنے کی کوئی رسم ہی نہیں ہے ۔ سڑک حادثات ہوں ، بم دھماکے ہوں ، یا کسی اور طریقہ سے عام لوگوں کی ہلاکتیں ہوں، حکومت جہاں یہ محسوس کرے کہ بات اس کی گردن پر آئےگی، فوری طور پر معاوضوں کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ ان معاوضوں کے حصول کے لیئے ورثاء اکثر و بیشتر سرکاری دفاتر کے چکر ہی لگاتے رہتے ہیں اور زخمیوں کے سرکاری نام نہاد اسپتالوں میں علاج کی جھوٹی تسلی دے کر حکمران اپنے تئیں یہ طے کر لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ ان لوگوں نے اپنی کارکردگی کا جائزہ لیا ہو ۔ سانحہ ہو یا حادثہ ، بس وہ گزر ہی جاتا ہے ۔ ہر واقعہ کئی گھرانوں کو تباہ کر گزرتا ہے لیکن عوام کے یہ نمائندے ان کے زخموں پر مرہم کا ایک پھایہ بھی رکھنے کے لیئے تیار نہیں ہوتے ہیں یا پھر نہ جانے کیوں رکھ نہیں پاتے۔
کراچی میں جہاں اتوار کے روز ہی خواتین کے ایک مذہبی اجتماع کے بعد تیس خواتین اور بچے بھگدڑ میں کچل کر ہلاک ہوگئے تھے، کیا صوبائی محکمۂ داخلہ، محکمۂ صحت اور درجن بھر ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ نشتر پارک کے اس مذہبی اجتماع کا جائزہ لیتے، حفاظتی تدابیر اور احتیاطی اقدامات اختیار کرتے؟ لیکن کیوں کرتے؟ یہاں تو جینے کے لیئے ’سب کچھ خود کرو” کا رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اور یہاں تو سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنا حکمرانوں کی پختہ عادت بن گئی ہے۔ وفاق سے لیکر ضلع کی سطح تک حکمران اور حکام اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ ہی تصور نہیں کرتے اور جب احتساب کا عمل بھی کمزور اور چھوٹے درجے کے ملازمین تک محدود ہو جائے تو معاشرے میں ایسا ہی ہو تا ہے جیسا کراچی میں 12 ربیع الاول کے دن ہوا۔ وزیرِاعلی سندھ ارباب غلام رحیم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ 12 ربیع الاول کے موقع پر اخبارات میں چوتھائی صفحہ کے ’جشن صبح بہاراں مبارک” کے عنوان سے درود شریف کے عربی متن کے ساتھ اشتہار اپنے نام سے سرکاری خرچ پر شائع کرانے کا ثواب اپنی جگہ ضرور ہوگا لیکن 12 ربیع الاول کے روز ہی ہونے والی اموات کی جواب دہی بھی ثواب دینے والے کے ہاں ان سے بھی ہوگی۔ |
اسی بارے میں کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار 12 April, 2006 | پاکستان کراچی سوگ میں، کاروبارزندگی معطل12 April, 2006 | پاکستان دھماکے میں چالیس ہلاک: شیر پاؤ11 April, 2006 | پاکستان دھماکے: ملک میں ہڑتال کی کال11 April, 2006 | پاکستان عید میلاد: دھماکے میں کم از کم ستاون ہلاک11 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||