دھماکے میں چالیس ہلاک: شیر پاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں نشتر پارک میں عیدِ میلاد النبی کے اجتماع میں دھماکے سے بڑی تعداد میں لوگوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ وفاقی وزیرِ داخلہ آفتاب شیر پاؤ نے اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد چالیس ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والوں میں کوئی اہم مذہبی رہنما شامل تھے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ خود کش حملہ تھا۔ نامہ نگار ادریس بختیار نے بتایا کہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالات ہیں۔ زخمیوں کو لایا جا رہا ہے اور انہیں خون دینے والوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی ہے۔ تاہم ہسپتال کے باہر خون کا عطیہ دینے کی مزید اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر کچھ گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق نشتر پارک کا اجتماع بہت بڑا تھا کیونکہ شہر میں شروع ہونے والے عیدِ میلاد کے بہت سے جلوس وہاں پر اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ دھماکہ سٹیج کے بہت قریب نمازِ مغرب کے وقت ہوا جب لوگ صفیں باندھ چکے تھے۔ کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لوگ دھماکے کی وجہ سے بہت مشتعل ہیں اور انہوں نے ہسپتال کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی میں نو اپریل کو عید میلادالنبی کے موقع پر میلاد کی محفل میں بھگدڑ مچ جانے سے انتیس عورتیں اور بچے ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔ (تفصیلات کچھ دیر میں) | اسی بارے میں کراچی: بھگدڑ کی تحقیقات کا حکم10 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||