کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے نشتر پارک میں بم دھماکے کے بعد میڈیکل سٹاف، فائر بریگیڈ کے ملازمین اور پولیس کے اہلکار خود عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔ مشتعل ہجوم نے جناح ہسپتال اور لیاقت نیشنل ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور کئی املاک اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے بعد جانے والی فائر برگیڈ کو جلایا۔ جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ شعبہ ایمرجنسی میں پہنچیں تو وہاں پہلے ہی ایک بڑا مجمع موجود تھا۔ لوگوں نے ہسپتال میں ہنگامہ کیا مگر سکیورٹی ایجنسیز اور فورسز کا کوئی اہلکار ہسپتال کے عملے کو تحفظ دینے کے لیے موجود نہیں تھا۔ ڈاکٹر جمال نے بتایا کہ انہوں نے گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس رابطہ کرکے اپیل کی کہ ہسپتال میں فوج یا رینجرز کو تعینات کیا جائے تاکہ ڈاکٹر اور نرسیں کام کر سکیں۔ ان کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی، تمام ڈاکٹر اور نرس سٹاف موجود تھے مگر سکیورٹی کے حوالے سے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ڈاکٹر جمالی نے کہا کہ اتنا خوف تھا کہ وہ بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔ دوسری جانب دھماکے کے بعد جیسے ہی فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی نشتر پارک پہنچی تو مشتعل لوگوں نے اس کو بھی نذر آتش کردیا، جبکہ صدر میں واقع فائر بریگیڈ کے دفتر پر کچھ لوگوں نے دھاوا بول دیا اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد گاڑیاں اور املاک جلنے کی اطلاعات آتی رہیں مگر فائر بریگیڈ کی گاڑی نہیں بھیجی گئی۔ کراچی کے فائر چیف کاظم نے بتایا کہ ’ہمیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا، فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی ڈیڑھ سے دو کروڑ مالیت کی ہے جسے جلایا گیا‘۔ انہوں نے کہا عدم تحفظ کی اس صورتحال میں ممکن نہیں تھا کہ ہم جاسکیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے لوگوں کو کہا کہ وہ ڈسپلین کا مظاہرہ کریں ۔ | اسی بارے میں عید میلاد: دھماکے میں کم از کم ستاون ہلاک11 April, 2006 | پاکستان ’کیمرے کے ساتھ تمہیں بھی توڑ دونگا‘11 April, 2006 | پاکستان دھماکے: ملک میں ہڑتال کی کال11 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||