کراچی: ورثاء اور زخمیوں کی امداد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے نشتر پارک دھماکے کے ہلاک شدگان کے ورثاء کو تین لاکھ روپے جبکہ ہر زخمی کو پچاس ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اور حزب مخالف نے اتفاق رائے سے قومی اسمبلی کے اجلاس کی بدھ کے روز کی کارروائی سوگ میں ملتوی کر دی ہے۔ سانحے میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے معاوضے کا اعلان بدھ کی شام وزیرِاعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیئےگئے فیصلوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نشتر پارک کراچی میں عید میلاد النبی کے جلسے میں ہونے والا بم حملہ خود کش تھا لیکن یہ پتہ لگایا جارہا ہے کہ خود کش حملہ آور ایک تھا یا دو۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ’ہمیں تین لاشیں ملی ہیں جس میں ایک صرف سر ہے جبکہ دو جسم سلامت ہیں اور ابھی پتہ کر رہے ہیں کہ یہ حملہ فرقہ وارانہ ہے یا دہشت گردی یا پھر غیر ملکی عناصر کی ایما پر کی گئی کارروائی‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں سینتالیس افراد کی ہلاکت اور نوے کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اس دھماکے کے ملزمان کو جلد گرفتار کرلے گی۔ وزیر نے بتایا کہ امن امان کی مجموعی صورتحال کے بارے میں وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے کابینہ کو بریفنگ دی۔ وزیر اطلاعات نے بریفنگ میں بتایا کہ موجودہ اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی اور آئندہ عام انتخابات آئین کے مطابق نگران حکومت کی سربراہی میں سن دو ہزار سات کے آخر یا پھر سن دو ہزار آٹھ کی ابتدا میں کرائے جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آرمی چیف کی مدت کب مکمل ہوگی تو انہوں نے کہا صدر مشرف اس بارے میں آئین کے مطابق وقت آنے پر خود فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں آئندہ مردم شماری سن دو ہزار آٹھ میں کرائی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مردم شماری فوج کی نگرانی میں ہوگی یا سویلین کے ذریعے اس بارے میں فیصلہ وقت آنے پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ’برڈ فلو‘ کا خطرہ نہیں ہے اور لوگ معمول کے مطابق انڈے اور مرغی کھا سکتے ہیں۔ وزیر کی بریفنگ میں ایک بیان بھی تقسیم کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی‘ کا اجلاس صدر مشرف کی صدارت میں ہوا جس میں ملکی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے بارے میں امریکہ سے ’ایف سولہ لڑاکا‘ طیارے اور چین سے ’ایف سی ٹین‘ طیارے خریدنے کی منظوری دی گئی۔ شیخ رشید احمد نے کے مطابق وزیراعظم نے’نیشنل کمانڈ اتھارٹی‘ میں کیے گئے فیصلوں کے بارے میں کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ پاکستان کے پاس کم از کم جوہری صلاحیت موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کے لیئے کافی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک طرف وزارت خارجہ کہتی ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان سویلین نیوکلیئر تعاون سے خطے میں توازن بگڑ جائے گا اور دوسری طرف ’نیشنل کمانڈ اتھارٹی‘ کہتی ہے کہ وہ امریکہ سے دو طرفہ تعاون پر مطمئن ہے تو یہ تضاد کیوں ہے؟ تو وزیر نے کہا کہ دفترِخارجہ کی بات ٹھیک ہے۔ کمانڈ اتھارٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے امریکہ سمیت ’نیوکلیئر سپلائرز گروپ‘ سے عالمی جوہری ایجنسی کے ’سیف گارڈز‘ کے تحت مطلوبہ آلات حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ |
اسی بارے میں کراچی سوگ میں، کاروبارِ زندگی معطل12 April, 2006 | پاکستان کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار 12 April, 2006 | پاکستان کراچی: میلاد اجتماع میں دھماکے کی وڈیو11 April, 2006 | پاکستان دھماکے: ملک میں ہڑتال کی کال11 April, 2006 | پاکستان عید میلاد: دھماکے میں کم از کم ستاون ہلاک11 April, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||