BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 10:25 GMT 15:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حملہ: سپریم کورٹ اپیل سنےگی

صدر مشرف پر حملہ
مشرف پر حملہ کے ملزمان کو فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی
پاکستان کی عدالت عظمی نے بدھ کو صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث چار ائر فورس اہلکاروں اور ایک شہری کو فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کی اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کے لیئے منظور کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان درخواستوں کی جلد سماعت کے لیئے یہ اپیلیں چیف جسٹس کے دفتر بھی بھجوانےکا حکم جاری کیا ہے۔ اب اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ کا تعین چیف جسٹس کا دفتر کرے گا۔

صدر مشرف پر حملے میں ملوث افراد مشتاق احمد کے علاوہ ائر فورس کے چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی،جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمداور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید کو سن دو ہزار چار میں ہونے والے کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ائر فورس کے دو اور اہلکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم دین اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان افراد کی اپیلوں کو لاہور ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں کو سویلین عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت عظمی نے ان اپیلوں کو سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔

 صدر مشرف پر حملے میں ملوث افراد مشتاق احمد کے علاوہ ائر فورس کے چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی،جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمداور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید کو سن دو ہزار چار میں ہونے والے کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ ائر فورس کے دو اور اہلکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم دین اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

آج عدالت میں ملزمان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمد کیونکہ سویلین ہے لہذا اسے ائر فورس ایکٹ کے تحت سزائے موت نہیں دی جا سکتی جبکہ ائر فورس اہلکاروں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں کسی ثبوت کے بنا سزا سنائی گئی ہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے عدالت سے کہا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف سماعت کے بارے میں اعلی سویلین عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان اعتراف جرم کے بیان سےمنحرف نہیں ہوئے ہیں لہذا ان کی اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ تاہم عدالت نے ان کے استدلال سے اتفاق نہیں کیا۔

اس سے قبل ملزمان کے وکیل نے عدالت سے شکایت کی کہ فوجی حکام نے ان کو ملزمان کے کیس کی تفصیلات کی کاپیاں فراہم نہیں کیں جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وکیل کو کاپیوں کا معائنہ کروایا گیا تھا مگر انہیں ان کاپیوں کی اپیل کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ اس کیس کی خفیہ نوعیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ائر فورس کے سربراہ نے رول ایک سو چھتیس کا استعمال کرتے ہوئے اس کیس کی کاروائی کو انتہائی خفیہ قرار دیتے ہوئے اس کی تفصیلات کی کاپیاں ملزمان کے وکیل کو نہیں دیں۔ تاہم عدالت نے اس پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ان کو کاپیاں کیوں فراہم نہیں کی گئیں۔

اسی بارے میں
مشرف حملہ، اپیل منظور
03 April, 2006 | پاکستان
مشرف حملہ، اپیلیں مسترد
28 March, 2006 | پاکستان
مشرف حملہ، ایک مجرم روسی
29 August, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد