مشرف حملہ: سپریم کورٹ اپیل سنےگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالت عظمی نے بدھ کو صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث چار ائر فورس اہلکاروں اور ایک شہری کو فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کی اپیلوں کو باقاعدہ سماعت کے لیئے منظور کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان درخواستوں کی جلد سماعت کے لیئے یہ اپیلیں چیف جسٹس کے دفتر بھی بھجوانےکا حکم جاری کیا ہے۔ اب اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ کا تعین چیف جسٹس کا دفتر کرے گا۔ صدر مشرف پر حملے میں ملوث افراد مشتاق احمد کے علاوہ ائر فورس کے چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی،جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمداور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید کو سن دو ہزار چار میں ہونے والے کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ائر فورس کے دو اور اہلکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم دین اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان افراد کی اپیلوں کو لاہور ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں کو سویلین عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم عدالت عظمی نے ان اپیلوں کو سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔ آج عدالت میں ملزمان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشتاق احمد کیونکہ سویلین ہے لہذا اسے ائر فورس ایکٹ کے تحت سزائے موت نہیں دی جا سکتی جبکہ ائر فورس اہلکاروں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف بھی فوجی عدالتوں میں کسی ثبوت کے بنا سزا سنائی گئی ہے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے عدالت سے کہا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف سماعت کے بارے میں اعلی سویلین عدالتوں کا دائرہ کار محدود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان اعتراف جرم کے بیان سےمنحرف نہیں ہوئے ہیں لہذا ان کی اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ تاہم عدالت نے ان کے استدلال سے اتفاق نہیں کیا۔ اس سے قبل ملزمان کے وکیل نے عدالت سے شکایت کی کہ فوجی حکام نے ان کو ملزمان کے کیس کی تفصیلات کی کاپیاں فراہم نہیں کیں جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ایسا کیوں نہیں کیا گیا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وکیل کو کاپیوں کا معائنہ کروایا گیا تھا مگر انہیں ان کاپیوں کی اپیل کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ اس کیس کی خفیہ نوعیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ائر فورس کے سربراہ نے رول ایک سو چھتیس کا استعمال کرتے ہوئے اس کیس کی کاروائی کو انتہائی خفیہ قرار دیتے ہوئے اس کی تفصیلات کی کاپیاں ملزمان کے وکیل کو نہیں دیں۔ تاہم عدالت نے اس پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ان کو کاپیاں کیوں فراہم نہیں کی گئیں۔ | اسی بارے میں مشرف حملہ، اپیل منظور03 April, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، اپیلیں مسترد28 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، اپیل کی سماعت ملتوی24 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ ’مجرم‘ سپریم کورٹ میں20 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، مجرم کی اپیل مسترد14 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، ایک مجرم روسی29 August, 2005 | پاکستان مشرف حملہ، فیصلے کے خلاف اپیل 27 September, 2005 | پاکستان مشرف حملہ: مفرور فضائیہ کا ملازم 12 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||