BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 March, 2006, 10:27 GMT 15:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف حملہ، اپیلیں مسترد

راولپنڈی کا پل بم سے اڑ گیا
صدر جنرل پرویز مشرف کی گاڑی چند لمحوں پہلے ہی پل سے گزری تھی
لاہور ہائی کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف پر سنہ دو ہزار تین میں ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث ائر فورس کے چار اہلکاروں کو سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کردی ہیں۔

سزا پانے والے ائر فورس کے چار اہلکاروں میں چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کارپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمد اور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید شامل ہیں۔


لاہور ہائی کورٹ کے جج سید اختر شبیر نے ابتدائی سماعت کے بعد ہی ان کی اپیلوں کو مسترد کردیا اورکہا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کی ذیلی شق تین کے تحت ہائی کورٹ مسلح افواج کی عدالت کے خلاف اپیل نہیں سن سکتی اور یہ درخواستیں قابل پذیرائی نہیں۔

ان افراد کی اپیلوں پر منگل کی صبح لاہور ہائی کورٹ آفس نے یہ اعتراض کیا تھا کہ فوجی عدالت کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہائی کورٹ میں نہیں ہوسکتی لیکن جج نے یہ اعتراض رد کردیا تھا اور ان کی ابتدائی سماعت کی۔

سزا پانے والے چار ملزموں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ اکرم نے ہائی کورٹ میں کہا کہ ان ملزموں کے خلاف براہ راست شہادتیں نہیں ہیں اور ان سے اعترافی بیانات ایک ماہ کی تاخیر سے لیے گئے جو قانون کے مطابق ٹھیک نہیں۔

وکیل صفائی نے ہائی کورٹ سے یہ بھی کہا کہ فوجی عدالت نے ملزموں کو سزا کا فیصلہ سنانے کے بعد انہیں عدالتی کارروائی کی نقل مہیا نہیں کی بلکہ صرف اسے پڑھنے کا موقع دیا گیا۔

ان اہلکاروں کو فوجی عدالت کے حکم کے مطابق منگل اٹھائیس مارچ کو پھانسی دی جانی تھی۔

تاہم ان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ اکرم نے ہائی کورٹ میں بتایا کہ ابھی تک انہیں پھانسی دیے جانے کے عمل کا آغاز نہیں ہوا جس کے تحت پھانسی پانے والوں کی ان کے لواحقین سے ملاقات کرائی جاتی ہے۔

چودہ دسمبر انیس سو تین کو راولپنڈی میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر صدر پرویز مشرف کو قتل کرنے کے الزام میں فوجی عدالت نے ائر فورس کے چھ اہلکاروں سمیت سات ملزموں کو سزا سنائی تھی۔ صدر مشرف کی گاڑی دھماکہ سے چند لمحے پہلے گزرنے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔

ان میں سے ائر فورس کے دو اہلکاروں کرم داد اور نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایک ملزم مشتاق احمد ائر فورس کے سویلین ملازم تھے جن کی اپیل سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے۔

جنرل مشرف مغرب کی تشویش
جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے
جرنل مشرفہیڈکواٹر اسلام آباد
عسکری قیادت اسلام آباد منتقل ہو رہی ہے
اسی بارے میں
صدر مشرف کی مصروفیات منسوخ
25 December, 2003 | پاکستان
’پانچ بم استعمال کیے گئے‘
16 December, 2003 | پاکستان
مشرف پر حملے اور مغربی تشویش
19 December, 2003 | پاکستان
مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت
14 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد