مشرف پر حملے اور مغربی تشویش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرہ دسمبر کو جب دنیا کی توجہ صدام حسین کی گرفتاری پر مرکوز تھی، جنرل پرویز مشرف پر ہونیوالے حملے نے مغربی دنیا میں ایک نئی تشویش کو جنم دیا۔ امریکی صدر جارج بش کے سابق اسپیچ رائٹر ڈیوِڈ فرم کا کہنا ہے کہ صدر مشرف پر اگر یہ حملہ کامیاب ہوا ہوتا توامریکہ کیلئے صدام حسین کی گرفتاری کی فتح کے برابر ہی یہ ایک اسٹریٹجِک شکست ثابت ہوتی۔ امریکی پندرہ روزہ رسالے نیشنل ریویو میں ڈیوِڈ فرم نے لکھا ہے: ’اس حملہ سے مشرف کی ذاتی جرات اور امریکہ کے لئے ان کی بے انتہا افادیت ثابت ہوتی ہے۔ اگر وہ ہلاک ہوگئے ہوتے، تو پاکستان ہمارے لئے ایک بھنور بن جاتا۔‘ ڈیِوڈ فرم کی اس تحریر سے واضح ہے کہ مغرب کی پیش قدمی میں جنرل مشرف ایک مرکزی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ صدام حسین کی گرفتاری کے بعد یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اسامہ بن لادن کو کیوں نہیں پکڑا جاسکا ہے۔ القاعدہ کی جانب سے برقرار خطرات کی وجہ سے مغربی دنیا الجھن میں ہے اور اس الجھن کے ازالے کے لئے صدر مشرف کے علاوہ دیگر مسلم رہنما کوئی اہم کردار ادا کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ پندرہ دسمبر کو نیویارک ٹائمز کے ایک قاری، پال ایم ورٹمان نے لکھا: ’بدقسمتی سے عراقی تنازعے نے ہماری توجہ القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے برقرار خطرات سے ہٹادی ہے۔ اس خطرے کا ثبوت اس اتوار کو صدر پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملوں سے عیاں ہے۔‘
جنرل مشرف پر یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ پاکستانی عوام پر ہمیشہ ہی یہ واضح رہا ہے کہ فوج میں طالبان اور القاعدہ کے حامی عناصر اور جہادی تنظیمیں مشرف پر حملوں کی منصوبہ بندی کی ذمہ دار ہیں۔ فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے اسلام آباد میں نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار ڈیوِڈ روڈے کو بتایا کہ یہ ناممکن ہے کہ جنرل مشرف کے قریبی مشیروں کے علاوہ کسی بھی شخص کو ان کی آمد و رفت کے اوقات کا علم ہو۔ ہم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر سولہ دسمبر سے اٹھارہ دسمبر کے درمیان ایک ووٹِنگ کرائی جس میں تین ہزار پانچ سو چوالیس قارئین نے ووٹ دیا۔ ان میں سے لگ بھگ چودہ سو ووٹروں کا خیال تھا کہ جنرل مشرف پر حملوں کے پیچھے شدت پسند گروہ متحرک ہیں جبکہ ساڑھے پندرہ سو ووٹروں نے کہا کہ فوج میں ناخوش عناصر یہ قاتلانہ سازشیں کررہے ہیں۔ جنرل مشرف کی زندگی کے بارے میں یہ تشویش مغربی ملکوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام اور خود حکومتِ پاکستان پر بھی واضح ہے۔ جنرل مشرف پر قاتلانہ حملے اور عراق میں مغرب کی ’فتح‘ ایک وسیع معاشرتی فکر کا اٹوٹ انگ سمجھے جارہے ہیں۔ اٹھارہ دسمبر کے اپنے اداریے میں برطانوی اخبار گارجین لکھتا ہے کہ’یہ دونوں واقعات منسلک ہیں۔‘ اور یہ بات پاکستانی عوام، القاعدہ کے حامی اور مغربی حکمرانوں پر واضح ہے۔ گارجین کا خیال ہے کہ جنرل مشرف کی ہلاکت ’استنبول میں ہونیوالے گزشتہ ماہ کے بم دھماکوں اور سعودی عرب اور دیگر مقامات پر القاعدہ کی جانب سے جاری حملوں سے بھی بڑا دھچکا ثابت ہوتی۔‘ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کی بدلی ہوئی دنیا میں جنرل مشرف نے تاریخ ساز نوعیت کے جو فیصلے کیے ہیں، ان کے پس منظر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان کی شخصیت صرف مغرب کے لئے ہی نہیں، بلکہ خود پاکستانی معاشرے اور برصغیر کے مستقبل کے لئے دور رس نتائج اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ اور مغربی دنیا کی نظر جنرل مشرف پر حملوں کے پس منظر میں ان دنوں پاکستان میں طاقت کے داخلی محرکات پر ایک بار پھر مرکوز ہورہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||