مشرف حملہ، اپیل کی سماعت ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے آج جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث پاکستان ائر فورس کے چار اہلکاروں کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت ستائیس مارچ تک موخر کر دی ہے۔ ان چاروں اہلکاروں کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان اہلکاروں کو اٹھائیس مارچ کو پھانسی دیئے جانے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔ آج لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سخی حسین بخاری نے ذاتی وجوہ کی بنا پر ان اہلکاروں کی اپیلیں سننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس شکور پراچہ نے یہ اپیلیں سماعت کے لیئے جسٹس سجاد حسین شاہ کے پاس بھیج دیں۔ جسٹس سجاد حسین شاہ نے کہا کہ ہائی کورٹ اس سے قبل ان اہلکاروں کے ہمراہ فوجی عدالت سے سزا پانے والے ایک ملزم مشتاق احمد کی اپیل مسترد کر چکا ہے لہذا یہ کیس کس طرح سنا جا سکتا ہے۔ اس پر ائر فورس اہلکاروں کے وکلا کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم اور حشمت حبیب نے موقف اختیار کیا کہ کیونکہ مشتاق احمد کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہذا عدالت ان اپیلوں کو سننے کے لیئے بڑا بنچ بنانے کے احکامات جاری کرے۔ عدالت نے وکلا کے اس استدلال کے بعد سماعت ستائیس مارچ تک موخر کرتے ہوئے وکلاء کو ہدایات جاری کیں کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کی کاپی ہائی کورٹ میں پیش کی جائے۔ چودہ دسمبر 2003 میں راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ایک پل کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا کر صدر کو قتل کرنے کے الزام میں چھ ائرفورس اہلکاروں سمیت سات افراد کو فوجی عدالت کی طرف سے سن دو ہزار چار میں سزا سنائی گئی تھی۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی گاڑی اس پل کے اڑنے سے چند لمحوں پہلے ہی وہاں سے گزر گئی تھی۔ ملزمان میں مشتاق احمد کے علاوہ جو ائرفورس کے سویلین اہلکار تھے، چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کورپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمد، جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید شامل ہیں۔ ان کو دو ہزار چار میں ہونے والے فوجی کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ دو اہلکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم داد اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ کو عمر قید ہوئی تھی۔ ان افراد کی فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف فوج میں اپیلیں اس سال جنوری میں مسترد ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو مشتاق احمد کی اپیل کی سماعت کی تھی اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو نوٹس جاری کیا تھا کہ وہ بارہ اپریل کو عدالت کے سامنے پیش ہوں اور بتائیں کہ کیا سویلین شخص کو فوجی عدالت سزائے موت دے سکتی ہے یا نہیں۔ آئینی طور پر پاکستان کی اعلٰی عدالتیں فوجی عدالت کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی مجاز نہیں ہیں مگر صدر پر حملے کے ملزمان آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت ہائی کورٹ میں آئے ہیں جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اعلٰی عدالتیں اس بات کی جانچ کریں کہ یہ سزائیں قانون کے مطابق دی گئیں تھیں یا نہیں۔ ملزمان کے وکلا کا دعویٰ ہے کہ اس کیس میں استغاثہ کے پاس کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں ہے اور ان تمام ملزمان پر تشدد کر کے ان سے ایک دوسرے کے خلاف بیان دلوائے گئے ہیں۔ |
اسی بارے میں صدرمشرف پرحملہ: فوجی کو پھانسی20 August, 2005 | پاکستان صدر پر حملے کا ملزم پھرگرفتار05 May, 2005 | پاکستان صدر مشرف کی مصروفیات منسوخ25 December, 2003 | پاکستان مشرف پر حملے اور مغربی تشویش19 December, 2003 | پاکستان ’پانچ بم استعمال کیے گئے‘16 December, 2003 | پاکستان مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت14 December, 2003 | پاکستان ’بیرونی نہیں اندرونی خطرات کا سامنا ہے‘12 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||