مشرف حملہ ’مجرم‘ سپریم کورٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل مشرف پر حملے کے الزام میں فوجی عدالت سے سزائے موت کے مستحق قرار دیئے جانے والے مشتاق احمد نے اپنی موت کی سزا ختم کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کیا ہے۔ فوجی عدالت نے مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نے فوجی عدالت کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ ، راولپنڈی بینچ کے سامنے اٹھایا تھا لیکن اس نے درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ مشتاق احمد ایک مرتبہ پہلے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کر چکے ہے لیکن درخواست میں تکینکی خامیاں کی وجہ سے اسے واپس لے لیا تھا۔ مشتاق احمد کے وکیل حشمت حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے تکینکی اعتراضات کو دور کر کے اپیل دوبارہ سپریم کورٹ میں دائر کر دی ہے۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائیرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں راولپنڈی میں دو ناکام قاتلانہ حملے ہوئے تھے جس کے بعد جنرل مشرف نےخود اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ان پر حملوں میں فوج کے چند جونیئر اہلکار بھی ملوث تھے۔ تاہم صدر مشرف پر حملے کے کیس کی تحقیقات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور اس بارے میں کبھی مکمل طور پر حکام نے کچھ نہیں بتایا۔ |
اسی بارے میں صدرمشرف پرحملہ: فوجی کو پھانسی20 August, 2005 | پاکستان ’مجھ پر حملے میں فوجی ملوث تھے‘27 May, 2004 | پاکستان مشرف حملہ، فیصلے کے خلاف اپیل 27 September, 2005 | پاکستان مشرف پر حملے اور مغربی تشویش19 December, 2003 | پاکستان مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت14 December, 2003 | پاکستان ’پانچ بم استعمال کیے گئے‘16 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||