مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد |  |
 | | | مشرف پر حملے میں کئی فوجی بھی ملوث رہے ہیں |
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ نے پیر کو صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزارتین میں ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث چار ملزمان کی سزائے موت کے خلاف اپیل کو سماعت کے لئے منظور کر لیا ہے۔ صدر مشرف پر صدرجنرل پرویز مشرف پر پچیس دسمبر دو ہزار تین میں ہونے والے حملے میں ایک فوجی اہلکار نائیک ارشد سمیت چھ افراد کو کورٹ مارشل کے بعد فوجی عدالت کی طرف سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ دو افراد کو عمر قید اور ایک خاتون کو بری کر دیا گیا ہے۔ صدر مشرف پر ہونے والے اس قاتلانہ حملے میں چودہ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان افراد کی اپنی سزا کے خلاف فوجی عدالت میں اپیلیں گزشتہ ماہ مسترد ہو چکی ہیں اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان میں سے چار افراد زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور بھٹی اور حمد اخلاص جو روس کا شہری ہے۔ لاہور ہائی کورٹ پہلے ان اپیلوں کو سماعت کے لئے منظور کرنے سے یہ کہ کر انکار کر دیا تھا کہ فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی سزائیں کے خلاف اپیلیں اعلی عدالتوں کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ تاہم ان افراد کے وکلا کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم اور حشمت حبیب کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس اختر شبیر نے ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ان اپیلوں کو سماعت کے لئے منظور کر لیا۔ ان اپیلوں کی سماعت کے لئے کوئی تاریخ نہیں دی گئی ہے۔پاکستان کی عدالت عظمی صدر مشرف پر دو ہزار تین دسمبر میں ہی ہونے والے ایک اور ناکام قاتلانہ حملے کے ایک ملزم کی اپیل کی سماعت اس ماہ کی بارہ تاریخ کو کرے گی۔ |