BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 March, 2006, 07:42 GMT 12:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاتل کی درخواست منظور

جنرل مشرف پر حملہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدھ کو صدرجنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003 میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ایک مجرم مشتاق احمد کو فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کو ختم کرنے کی اپیل کو دوبارہ دائر کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

مشتاق احمد کو بدھ پندرہ مارچ کو ہی پھانسی دی جانی تھی مگر ان کے وکیل کے مطابق سپریم کورٹ میں اپیل کی وجہ سے اس کی پھانسی کی سزا کو مؤخر کر دیا گیا۔

 مشتاق احمد کو بدھ پندرہ مارچ کو ہی پھانسی دی جانی تھی مگر ان کے وکیل کے مطابق سپریم کورٹ میں اپیل کی وجہ سے اس کی پھانسی موخر کر دی گئی ہے۔

مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں دو ہزار چار میں کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائیرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم ان کو گزشتہ برس مئی میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے گزشتہ روز مشتاق احمد کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی جس کے بعد مشتاق احمد کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کر دی تھی۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس شاکر اللہ جان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس کیس کی سماعت کی اور مشتاق احمد کے وکلاء کو سرزنش کی کہ انہوں نے مشتاق احمد کی اپیل آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی ذیلی دفعہ تین کے تحت دائر کی ہے جبکہ یہ اپیل آرٹیکل ایک سو پچاسی کے تحت دائر کی جانی چاہئے تھی۔

چیف جسٹس نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کے دفتر نے کس طرح اس درخواست کو سماعت کے لئے منظور کر لیا۔

تاہم مشتاق احمد کے وکیل کرنل محمد اکرم نے کہا کہ کیونکہ اسی روز مشتاق احمد کو پھانسی دی جانی تھی لہذا اس کے روکنے کے لئے جلدی میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں اس درخواست کو دوبارہ دائر کردیں گے۔

مشتاق احمد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم اور حشمت حبیب کے مطابق مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر چودہ دسمبر 2003 میں راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ایک پل کو اڑانے کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی گاڑی اس دھماکے سے چند لمحوں پہلے پل سے گزر گئی تھی۔

اس کیس میں مشتاق احمد کے علاوہ ائیر فورس کے چھ جونیئر رینک کے اہلکاروں کو بھی اس کیس میں سزا ہوئی ہے۔ ان میں چیف ٹیکنیشن خالد محمود، سینیئر ٹیکنیشن کرم دین، کورپورل ٹیکنیشن نوازش علی،جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمد، جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ شامل ہیں۔

سن دو ہزار چار میں ہونے والے فوجی کورٹ مارشل کے مطابق مشتاق احمد کے علاوہ چھ میں سے چار ائیرفورس کے اہلکاروں کو سزائے موت ہوئی جن میں خالد محمود، نوازش علی، نیاز محمد اور عدنان رشید شامل ہیں جبکہ کرم دین اور نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مشتاق احمد کے وکیل کے مطابق انہوں نے مشتاق احمد کے کیس میں یہ استدلال دیا ہے کہ مشتاق احمد کیونکہ ائیر فورس کے باقائدہ ملازم نہیں تھے لہذا ان پر ائیر فورس ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چل سکتا۔ وکیل کے مطابق مشتاق احمد کو ائیر فورس کے اہلکاروں کو صدر مشرف پر قاتلانہ حملے کی ترغیب دینے کے الزام میں موت کی سزا ہوئی ہے ۔ وکیل نے مزید بتایا کہ فوجی عدالت کسی سویلین کو موت کی سزا نہیں سنا سکتی اور زیادہ سے زیادہ عمر قید دے سکتی ہے۔

وکیل نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کیس میں ملزمان پر تشدد کے ذریعے اقبالی بیانات لئے گئے اور اس کیس میں ملزمان کو سزا دینے کے لئے استغاثہ کے پاس کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں ہے جس سے وہ عدالت میں یہ ثابت کر سکیں کہ مشتاق احمد اس کیس میں ملوث تھے۔

صدرجنرل پرویز مشرف پر پچیس جنوری دو ہزار تین میں ہونے والے دوسرے حملے میں بھی ایک فوجی اہلکار نائیک ارشد سمیت چھ افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ دو افراد کو عمر قید اور ایک خاتون کو بری کر دیا گیا ہے۔ مشتاق احمد کے وکلاء ہی اس کیس میں بھی صدر مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے ملزمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان افراد کی اپنی سزا کے خلاف فوجی عدالت میں اپیلیں گزشتہ ماہ مسترد ہو چکی ہیں اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ افراد بھی اب اپنی سزاؤں کے خلاف اعلی عدالتوں سے رجوع کریں گے۔

ان افراد میں نائیک ارشد کے علاوہ زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور بھٹی، رانا نوید، شازیہ مبشر اور تین دیگر افراد شامل ہیں جن میں سے ایک شخص محمد اخلاص روس کا شہری ہے۔

اس ناکام حملے میں چودہ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ان ملزمان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے موکلوں کو ان دونوں مقدمات میں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے تاکہ صدر مشرف پر قاتلانہ حملے کی فائل کو بند کر دیا جائے۔

ان دونوں حملوں کی تحقیقات میں سویلین ملزمان کو فوجی عدالت نے فوجی اہلکاروں کو ترغیب دینے کے معاملے پر موت کی سزا سنائی ہے جو قانونی حلقوں میں اس وقت موضوع بحث ہے۔ وکلاء کے مطابق فوجی عدالتیں سیویلین افراد کو موت کی سزا نہیں دے سکتیں۔ یہی نکتہ ان افراد کی اپیلوں میں بھی اٹھایا گیا ہے جس کے بارے میں اعلی عدالتیں فیصلہ کریں گی کہ آیا یہ نکتہ قانونی لحاظ سے کتنا صحیح ہے۔

صدر مشرفخطرناک قاتلانہ حملے
صدر مشرف پر قاتلانہ حملوں پر خصوصی ضمیمہ
صدر مشرف کی سیکیورٹی سے پریشان لوگعوام کی پریشانی
صدر مشرف کی سیکیورٹی سے پریشان لوگ
اسی بارے میں
پھانسی پر حکمِ امتناعی
14 March, 2006 | پاکستان
’صدر پر حملہ: ملزم کون؟
09 January, 2004 | پاکستان
مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت
14 December, 2003 | پاکستان
’پانچ بم استعمال کیے گئے‘
16 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد