BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 March, 2006, 17:01 GMT 22:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پھانسی پر حکمِ امتناعی

صدر جنرل مشرف پر قاتلانہ حملہ
جنرل مشرف پر دسمبر2003 میں ناکام قاتلانہ حملے ہوئے تھے
سپریم کورٹ نےصدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003 میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ایک مجرم مشتاق احمد کی سزائے موت کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر دیا ہے۔

مشتاق احمد کے وکیل کرنل(ر) محمد اکرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی کورٹ کی طرف سے اپیل مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جس پر عدالتِ عظمٰی نے سٹے آرڈر جاری کر دیا۔

مشتاق احمد کو پندرہ مارچ یعنی بدھ کو پھانسی دی جانی تھی لیکن منگل کی شام ہی ان کے وکیل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس پر عدالت نے پھانسی کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر دیا ہے اور اب بدھ کو عدالت اس کیس کی سماعت کرے گی۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے مشتاق احمد کو فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی اپیل مسترد کر دی تھی۔

مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں دو سال پہلے کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم ان کو گزشتہ برس مئی میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

 مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں دو سال پہلے کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ائرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم ان کو گزشتہ برس مئی میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا

صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر دو ہزار تین میں راولپنڈی میں دو ناکام قاتلانہ حملے ہوئے تھے جس کے بعد جنرل مشرف نےخود اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ان پر حملوں میں فوج کے چند جونیئر اہلکار بھی ملوث تھے۔ تاہم صدر مشرف پر حملے کے کیس کی تحقیقات کو خفیہ رکھا گیا ہے اور اس بارے میں کبھی مکمل طور پر حکام نے کچھ نہیں بتایا۔

مشتاق احمد نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جس کی سماعت جسٹس عبدالشکور پراچہ نے کی۔ مشتاق احمد کے وکیل نے عدالت کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ مشتاق احمد کیونکہ ائیر فورس میں ملازم نہیں تھے لہذا اس کا ائیرفورس ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا۔

تاہم عدالت نے وکیل کے اس استدلال کو تسلیم نہیں کیا اور اپیل مسترد کر دی۔مشتاق احمد کے علاوہ ائیر فورس کے چند جونیئر رینک افسران کو بھی جنرل مشرف پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا سنائی جا چکی ہے۔

اخلاص اخلاق روسی کی شناخت
مشرف پر قاتلانہ حملے کا ایک مجرم روسی ہے
اسی بارے میں
مشرف پر حملے اور مغربی تشویش
19 December, 2003 | پاکستان
مشرف کے گرد سیکیورٹی سخت
14 December, 2003 | پاکستان
’پانچ بم استعمال کیے گئے‘
16 December, 2003 | پاکستان
حملہ آوروں کی شناخت
26 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد