مشرف حملہ: اپیل کی سماعت شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بدھ کو صدرجنرل پرویز مشرف پر دسمبر 2003 میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں ملوث ایک مجرم مشتاق احمد کو ایک فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کو ختم کرنے کی اپیل کی سماعت شروع کی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو بارہ اپریل کو اس بات پر مشاورت کے لیئے طلب کیا ہے کہ وہ اپیل کنندہ کے اس موقف پر کیا رائے رکھتے ہیں کہ آیا فوجی عدالت کسی سویلین کو سزائے موت دے سکتی ہے یا نہیں۔ مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر حملے میں دو ہزار چار میں کورٹ مارشل کے بعد موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ مشتاق احمد نومبر 2004 کے آخری ہفتے کے دوران راولپنڈی میں ایئرفورس پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے تھے تاہم انہیں گذشتہ برس مئی میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے منگل کومشتاق احمد کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی جس کے بعد مشتاق احمد کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی تھی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری،جسٹس شاکر اللہ جان اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بدھ کو اس کیس کی سماعت شروع کی اور اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ پاکستان ایئر فورس ایکٹ کے تحت ایسا لگتا ہے کہ فوجی عدالت کسی فوجی کو بھڑکانے اور بغاوت کی ترغیب دینے پر سزائے موت سنا سکتی ہے۔ تاہم مشتاق احمد کے وکلاء کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم اور حشمت حبیب نے موقف اختیار کیا کہ فوجی عدالت کسی سویلین کو بغاوت کے الزام میں سزائے موت نہیں سنا سکتی اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
مشتاق احمد کو پندرہ مارچ کو پھانسی دی جانی تھی مگر مشتاق احمد کے وکیل کے مطابق سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کی وجہ سے اس کی پھانسی موخر ہو گئی ہے۔ مشتاق احمد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم اور حشمت حبیب کے مطابق مشتاق احمد کو صدر جنرل پرویز مشرف پر چودہ دسمبر 2003 میں راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ایک پل کو اڑانے کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی گاڑی اس پل کے اڑنے سے چند لمحوں پہلے گزر گئی تھی۔ اس کیس میں مشتاق احمد کے علاوہ ایئر فورس کے چھ جونیئر رینک کے اہلکاروں کو بھی سزا ہوئی ہے۔ سزا پانے والوں میں چیف ٹیکنیشن خالد محمود، سینیئر ٹیکنیشن کرم دین، کورپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمد، جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ شامل ہیں۔ سن دو ہزار چار میں ہونے والے فوجی کورٹ مارشل کے مطابق مشتاق احمد کے علاوہ ایئرفورس کے چھ میں سے چار اہلکاروں کو سزائے موت ہوئی جن میں خالد محمود، نوازش علی، نیاز محمد اور عدنان رشید شامل ہیں جبکہ کرم دین اور نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایئر فورس کےجن چار اہلکاروں کو اس کیس میں سزائے موت ہوئی ہے انہوں نے بھی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں ہیں جن کی سماعت جمعہ یعنی چوبیس مارچ کو ہو گی۔ صدرجنرل پرویز مشرف پر پچیس جنوری دو ہزار تین میں ہونے والے دوسرے قاتلانہ حملے میں بھی ایک فوجی اہلکار نائیک ارشد سمیت چھ افراد کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ دو افراد کو عمر قید اور ایک خاتون کو بری کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کی اپنی سزا کے خلاف فوجی عدالت میں اپیلیں گزشتہ ماہ مسترد ہو چکی ہیں اور ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ افراد بھی اب اپنی سزاؤں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے۔ اس ناکام حملے میں چودہ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ان افراد میں نائیک ارشد کے علاوہ زبیر احمد،راشد قریشی، غلام سرور بھٹی،رانا نوید، شازیہ مبشر اور تین دیگر افراد شامل ہیں جن میں سے ایک شخص محمد اخلاص روس کا شہری ہے۔ ان دونوں حملوں کی تحقیقات میں سویلین ملزمان کو فوجی عدالت نے فوجی اہلکاروں کو ترغیب دینے کے معاملے پر موت کی سزا سنائی ہے جو قانونی حلقوں میں اس وقت موضوع بحث ہے۔ وکلاء کے مطابق فوجی عدالتیں سیویلین افراد کو موت کی سزا نہیں دے سکتیں۔ یہی نکتہ ان افراد کی اپیلوں میں بھی اٹھایا گیا ہے جس کے بارے میں اعلیٰ عدالتیں فیصلہ کریں گی کہ آیا یہ نکتہ قانونی لحاظ سے کتنا صحیح ہے۔ | اسی بارے میں مشرف حملہ، مجرم کی اپیل مسترد14 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ ’مجرم‘ سپریم کورٹ میں20 March, 2006 | پاکستان مشرف حملہ، ایک مجرم روسی29 August, 2005 | پاکستان مشرف پر حملہ: پانچ کو سزائے موت26 August, 2005 | پاکستان ’قاتلانہ حملوں میں القاعدہ کا ہاتھ‘15 March, 2004 | پاکستان مشرف قاتلانہ حملے سے کیسے بچے؟17 December, 2003 | پاکستان مشرف پر حملہ، مجرم منتقل27 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||