BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سزائے موت ایک ماہ کے لیئے مؤخر

سپریم کورٹ
مرزا طاہر حسین کی سزائے موت وفاقی شرعی عدالت نے بحال کر دی تھی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی نژاد برطانوی شہری مرزا طاہر حسین کی سزائے موت پر ایک ماہ کے لیے عملدرآمد روک دیا ہے۔

پاکستان کی دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر مرزا طاہر حسین کی سزائے موت پر ایک ماہ کے لیے عملدرآمد روک دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ملزم کے بھائی امجد حسین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر نے گزشتہ رات فون کرکے یہ اچھی خبر سنائی کہ صدرِ پاکستان نے ان کے بھائی کی سزائے موت پر تاحکم ثانی عملدرآمد روک دیا ہے۔

اس بارے میں وزیر اطلاعات محمد علی درانی سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق یا تردید نہیں کی اور کہا کہ انہیں علم نہیں ہے۔

مرزا طاہر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو سن انیس سو اٹھاسی میں اس وقت قتل کیا تھا جب وہ برطانیہ سے پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے جارہے تھے۔ اس وقت ملزم کی اپنی عمر اٹھارہ برس تھی۔

ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے مرزا طاہر حسین کو بندوق کے زور پر جنسی طور پر حراساں کرنے اور لوٹنے کی کوشش کی تھی اور ہاتھا پائی میں بندوق چلنے سے ڈرائیور قتل ہوگیا تھا۔

پاکستان میں انہیں گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا اور موت کی سزا دی گئی اور حکام کے مطابق یکم جون کو ان کی چھتیس ویں جنم دن کے موقع پر انہیں پھانسی دی جانے والی تھی۔

گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور وزیر خارجہ نے انہیں موت کی سزا نہ دینے کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف سے اپیل بھی کی تھی۔ جبکہ برطانوی پارلیمینٹیرینز نے بھی مرزا طاہر کو موت کی سزا سے بچانے کے لیے مہم شروع کی تھی اور گزشتہ ہفتے پاکستان آئے تھے۔

مرزا طاہر کی سزا
 لاہور ہائی کورٹ نے لکھا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور اپیل کی سماعت کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو ہے۔ جس کے بعد شرعی عدالت نے سماعت کی اور ملزم کو نوٹس دیئے بنا موت کی سزا سنادی۔
وکیل خالد رانجھا

مرزا طاہر حسین کے وکیل سینیٹر خالد رانجھا نے بی بی سی کو بتایا کہ مرزا طاہر حسین کو ٹرائل کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی اور لاہور ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت کے دوران سزا معطل کرکے ٹرائل کورٹ کو دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔

ان کے مطابق دوبارہ سماعت کے بعد ٹرائل کورٹ نے مرزا طاہر کو سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا دے دی۔ وکیل نے بتایا کہ جب عمر قید کی سزا کے خلاف دوبارہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی تو انہیں رہا کردیا گیا۔

خالد رانجھا نے بتایا کہ بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے لکھا کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور اپیل کی سماعت کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کو ہے۔ جس پر ان کے مطابق شرعی عدالت نے سماعت کی اور ملزم کو نوٹس دیئے بنا موت کی سزا سنادی۔

انہوں نے بتایا کہ تین رکنی شرعی عدالت کے بینچ میں سے ایک جج نے سزائے موت کی مخالفت کی۔ ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو مسترد ہوگئی اور بعد میں نظر ثانی کی درخواست بھی رد ہوگئی۔

وکیل نے بتایا کہ اسلامی قانون کے مطابق اب مرزا طاہر کو موت کی سزا سے بچنے کا واحد طریقہ مقتول کے ورثا کی جانب سے انہیں معاف کرنے کی صورت میں باقی ہے۔ ان کے مطابق مقتول کے ورثا نے پہلے تو خون بخشنے اور معاوضہ لینے سے انکار کردیا تھا اور ملزم کے ورثا نے مقتول کے لواحقین سے دوبارہ رابطہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد