سپریم کورٹ، سابق رجسٹرار گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف جسٹس نے بدعنوانی کے الزامات کے تحت عدالت اعظمی کے سابق رجسٹرار اور ’اسلامک انویسٹمینٹ بینک‘ کے سربراہ سمیت چودہ افراد کو گرفتار کرکے قومی احتساب بیورو کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سابق رجسٹرار ایم اے فاروقی، اسلامک انویسٹمینٹ بینک کے سربراہ جاوید قریشی سمیت چودہ افراد جو عدالت میں موجود تھے انہیں گرفتار کرکے مزید کارروائی کے لیے قومی احستاب بیورو کی تحویل میں دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ احتساب بیورو مقدمہ درج کرکے تحقیقات کرے اور پیش رفت کے بارے میں ہر ہفتے عدالت کو مطلع کرے۔ ایم اے فاروقی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک مقدمے میں ضمانت کے طور پر عدالت میں جمع کرائی گئی رقم عدالت اعظمیٰ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ کے بجائے’اسلامک انویسٹمینٹ بینک‘ میں نیا اکاؤنٹ کھول کر جمع کرادی جو بینک نے مقررہ وقت پر فراہم نہیں کی۔ ایم اے فاروقی کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا اور عدالت کے سینیئر ترین جج، جسٹس افتخار محمد چودھری نے تحقیقات کرکے رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں چیف جسٹس نے جمعرات کے روز احتساب بیورو کو مقدمہ درج کرنے اور چودہ افراد کو ان کی تحویل میں دینے کا حکم جاری کیا۔ چیف جسٹس نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سابق رجسٹرار کے ساتھ اسلامک انویسٹمینٹ بینک کے سربراہ سمیت گیارہ افسران، فیکٹو بیلا روس ٹریکٹر کمپنی کے منور علی فیکٹو سمیت سات ’شیئر ہولڈر‘ اور سرمایہ کاری میں تین دیگر حصہ دار بل واسطہ یا بلا واسطہ تریسٹھ کروڑ ترتالیس لاکھ ترانوے ہزار آٹھ سو اٹھانوے روپوں کے سرکاری فنڈز کی ہیرا پھیری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز کے ایک مقدمے میں فیکٹو بیلا روس ٹریکٹر کمپنی نے حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ عدالت نے متعقلہ کمپنی کو زر ضمانت کے طور پر پچاس کروڑ روپے عدالت ممیں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد مبینہ طور پر اس وقت کے عدالت کے رجسٹرار ایم اے فاروقی نے اپیل کنندگاں سے ساز باز کرکے رقم اسلامک انوسٹمینٹ بینک کے حکام کی ملی بھگت سے ایک نیا اکاؤنٹ کھول کر سرمایہ کاری کی غرض سے جمع کرادی۔ سپریم کورٹ نے جب مقدمہ کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اپیل رد کردی اور فیصلہ حکومت کے حق میں دے دیا اور متعقلہ رقم ٹیکس اکٹھی کرنے والے ادارے ’سی بی آر‘ کو دینے کا حکم دیا۔ ’سی بی آر‘ نے جب متعقلہ بینک سے رجوع کیا تو انہوں نے رقم دینے سے معذرت کی اور کہا کہ انہوں نے متعلقہ رقم سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرلی ہے۔ ایسی صورتحال کے بعد جب دوبارہ عدالت سے رجوع کیا گیا تو عدالت نے اپنے سینیئر جج کو تحقیقات کا حکم دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||