BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 August, 2004, 09:52 GMT 14:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی افسران سپریم کورٹ کے سامنے

ہائی کورٹ نے ان کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں
ہائی کورٹ نے ان کی اپیلیں مسترد کر دی ہیں
القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں کئی ماہ سے زیر حراست پاکستان آرمی کے چھ حاضر سروس افسران کی گرفتاری کے متعلق ان کے ورثا نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کردی ہیں۔

اپیل کنندگان کے وکیل چوہدری اکرام نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ اپیلیں لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔

وکیل کے مطابق القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں حکومت نے کرنل کے عہدے کے دو فوجی افسران خالد عباسی اور غفار بابر، تین میجر، روہیل فراز، عطاءاللہ اور عادل فردوس جبکہ ایک کیپٹن، عثمان کو کئی ماہ سے حراست میں لیا ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اختر شبیر اور جسٹس تنویر بشیر انصاری پر مشتمل بینچ نے فوجی افسران کی گرفتاری کے متعلق درخواستیں یہ کہہ کر نمٹا دیں تھیں کہ یہ فوجی معاملہ ہے اور وہ عدالت کے دائرہ سماعت سے باہر ہے۔

وکیل کے مطابق عدالت کے حکم کے باوجود بھی فوجی حکام نے متعلقہ فوجی افسران کی گرفتاری، حراست یا الزامات کے بارے میں کوئی تحریری حکم عدالت میں پیش نہیں کیا تھا۔

چوہدری اکرام نے بتایا کہ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ تمام فوجیوں کو رہائی دلائی جائے کیونکہ متعلقہ حکام نے لاہور ہائی کورٹ میں زیرحراست افراد کے متعلق کوئی ٹھوس جواز پیش نہیں کیا تھا۔

وکیل کے مطابق اپیلوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت میں فوجی معاملات میں بھی عدالت اعظمیٰ کا دائرہ سماعت ختم نہیں ہوتا اور عدالتیں نوٹس لے سکتی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل چوہدری طارق محمود نے موقف احتیار کیا تھا کہ آئین کی شق 199 (3) کے تحت مسلح افواج کے متعلق معاملات عدلیہ کے دائرہ سماعت میں نہیں آتے۔

واضح رہے کہ عدالت کو فوجی نمائندے نے بتایا تھا کہ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے عرصہ سے کچھ افسران زیر حراست ہیں اور ان کے خلاف ’آرمی ایکٹ، کے تحت کارروائی ہوگی۔ ان کے بقول معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور وہ عدالت میں تحریری حکم جس کے تحت انہیں حراست میں لیا گیا تھا وہ پیش نہیں کرسکتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد