پتنگ بازی: سپریم کورٹ سے پانچ رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ کی فل بنچ نےان پانچ نوجوانوں کو ضمانت پر رہا کر دیا جنہیں تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل پتنگ بازی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس کے حکم پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی ہتھکڑیاں کھول دی گئیں۔ خطرناک ڈور سے پتنگ بازی کے نتیجے میں چالیس سے زائد ہلاکتوں کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈیڑھ ماہ پہلے پتنگ بازی پر پابندی لگا دی تھی۔ جمعرات کی کارروائی میں اس بات کا سختی سے نوٹس لیا کہ پنجاب پولیس عدالت کی طرف سے عائد کردہ پابندی پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہی ہے اور پنجاب بھر سے گرفتار کیے گئے دوسو اٹھاسی افراد میں سے ایک بھی تعلق پتنگ بازی کی تیاری یا ڈور فروخت کرنے سے نہیں ہے بلکہ عام لوگوں کو، جن میں کم سن بچے بھی شامل ہیں ،حراست میں لیا گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گرفتار شدگان میں سے پانچ کے سوا تمام افراد کو ضمانت پر رہا کیا جاچکاہے۔ عدالت کے حکم پر ان پانچوں افراد کو جو تقریبا ڈیڑھ ماہ سے جیل میں تھے عدالت کے روبرہ پیشں کیاگیا۔ ایک زیر حراست نوجوان نے عدالت کو بتایا کہ وہ محنت کش ہے اور شاہ عالمی میں سڑک کے کنارے پانی پی رہا تھا کہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے تمام ملزمان کی ہتھکڑیاں عدالت میں ہی کھلوائیں اور کہا کہ انہیں دو دو سو روپے کے ضمانت ناموں کے عوض رہا کر دیا جائے۔ لاہور میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے روبرو ملک میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر نے کا مطالبہ کیا گیا۔ ایک مرحلے پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کرکے کہا کہ پتنگ بازی پرپابندی سے متعلق عدالت کے حکم کی جو خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟۔
جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ ’آپ نے ہمارے آڈر کو ایک مذاق بنا دیا ہے‘۔ انہوں نے ایک اخبار کی سرخی پڑھ کر سنائی ’پتنگ بازی پر پابندی ہوا میں اڑا دی گئی‘۔ عدالت کے فوری نوٹس پر لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے عدالت میں حاضر ہوکر پتنگ بازی پر عائد پابندی پر عملدرآمد کےلیے اب تک کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بتائیں اور یہ وعدہ کیا کہ وہ تین روز کے اندر آئندہ منصوبوں کی رپورٹ پیش کریں گے۔ ضلعی ناظم نے کہا کہ اس بار زلزلے کی وجہ سے پتنگ بازی ماضی کی طرح منائی ہی نہیں جاسکتی تاہم انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی پر پابندی کے فائدے زیادہ ہیں۔ پاکستان میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے ’واپڈا‘ کے وکیل شاھد حامد نے کہا کہ جب سے پتنگ بازی پر پابندی لگی ہے تب سے بجلی کی بار بار بندش سے ہونے والے نقصانات آدھے رہ گئے ہیں۔ اکرم شیخ ایک ایسے بچے کے ورثاء کے وکیل تھے جو پتنگ بازی کے لیے استعمال ہونے والی ڈور سے ہلاک ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام آئینی حقوق ایک اصول کے تابع ہوتے ہیں کہ کہ کونسا حق برتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ زندگی گزرانے کا حق تمام کاروباری حقوق سے برتر حق ہے اس لیے لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اگر کچھ کاروباری لوگوں کے مفاد پر زد پڑتی بھی ہو تو اس کی پرواہ نہیں کرنا چاہیے۔ پتنگ اور ڈور سازی سے وابستہ لوگوں میں سے ایک کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ اگر کوئی کام غلط ہو رہا ہو تو اسے نظم و ضبط کے تحت لانا چاہیے نہ کہ اس پر پابندی عائد کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر شادی بیاہ کے کھانوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کی جائےتو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شادیوں پر پابندی لگا دی جائے۔ ملک قیوم آئندہ سماعت میں اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔ سپریم کورٹ میں پتنگ بازی کیس کی سماعت کے دوران غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد کمرہ عدالت کےاندر باہر احاطے میں اور سڑک پر موجود تھی۔ ان افراد میں وہ تمام ڈھائی سو زائد افراد اور ان کے لواحقین شامل ہیں جو پتنگ بازی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور ضمانت پر ہیں ان کے علاوہ پتنگ اور ڈور سازی کے کاروبار سے وابستہ افراد اور پتنگ باز بھی موجود تھے۔ ایک موقع پر عدالت نے کہا کہ وہ تمام لوگ کمرہ عدالت سے چلے جائیں جن کا براہ راست تعلق نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر سال سردی کے اختتام پر بسنت کا تہوار منایاجاتا ہے اور پتنگ بازی لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں بسنت کا لازمی جزو ہے۔ لاہور میں بسنت ڈے اور نائٹ کی رنگا رنگ تقریبات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔ تاہم پتنگ بازی کے دوران ہر سال درجنوں افراد مختلف قسم کے حادثات کا شکار ہو کر ہلاک بھی ہوتے ہیں اور چند سالوں سے شرح اموات میں اضافہ کے ساتھ یہ تہوار بھی متنازعہ ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں پتنگ بازی پر عائد پابندی ختم 12 December, 2003 | پاکستان لاہور: پتنگ بازی میں پانچ ہلاک02 February, 2004 | پاکستان لاہورمیں آسمان پتنگوں سے سجےگا12 February, 2004 | پاکستان فوجی حکمت سے پتنگ بازی کا جنم13 February, 2004 | پاکستان بسنت: پتنگیں، موسیقی اور دعوتیں05 February, 2005 | پاکستان سپریم کورٹ: پتنگ بازی پر پابندی25 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||