BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 February, 2004, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہورمیں آسمان پتنگوں سے سجےگا

 آج لاہوری آسمان کو پتنگوں سے سجائیں گے
لاہور کے ہوٹلوں میں تمام کمرے بک ہوچکے ہیں۔
سنیچرکی رات سے لاہوری آسمان پر پتنگوں کا کھیل کھیلیں گے اور شہر کے افق کو اگلے چوبیس گھنٹوں تک رنگ برنگی پتنگوں سے سجایا جائے گا۔ پیچے ہونگے، ناچ گانا ہوگا، چھوٹی چھوٹی گلیوں میں گھروں کی چھتوں سے لے کر بڑے بڑے ہوٹلوں تک ہر جگہ بسنت کا رنگ ہوگا، شور ہوگا۔ پورے شہر میں میلہ ہوگا۔

لاہور کی بسنت جو پتنگ بازی اور مہمان داری کا ایک بے ساختہ تہوار ہے، اس مرتبہ بھی کاروباری اداروں اور سرکاری سرپرستی میں پوری تیاریوں کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

لاہور میں دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانوں کے لیے تمام ہوٹلوں میں کمرے بک ہوچکے ہیں اور ان کے کراۓ عام دنوں سے کہیں زیادہ وصول کیے گۓ ہیں۔

ہندوستان سے پینسٹھ فلمی ستارے جن میں شلپا سیٹھی، پوجا بھٹ اور اکشے کمار وغیرہ شامل ہیں ان کے لاہور پہنچنے کی خبریں ہیں لیکن آج بھی لاہور میں انڈین ائیر لائینز کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ابھی تک ویزہ نہیں مل سکا ہے۔ اس لیے ان کا آنا ذرا مشکوک ہے۔

پورے شہر میں رنگ بکھرے گا
پورے شہر میں رنگ بکھرے گا

ہندوستان کے سابق وزیراعظم آئی کے گجرال اور راجھستان کے وزیراعلی وسوندھرا راجے بھی بنست تقریبات کے لیے لاہور میں بارہ فروری کو متوقع ہیں۔ اگر وہ آۓ تو سرکاری مہمان ہوں گے۔

لاہور کے لوگ چھتوں پر پتنگ بازی کرتے تھے بو کاٹا کے نعرے بلند کرتے اور بگل بجاکر بسنت مناتے آۓ ہیں۔

اب ا س میں نیا رنگ یہ آگیا ہے کہ اس موقع کو کاروباری ادارے اپنے مستقل گاہکوں کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے گاہوں کو ملک بھر سے لاہور بلا کر ہوٹلوں میں ٹھہراتے ہیں اور ان کی موسیقی اور رقص کی محفلوں سے تواضع کرتے ہیں۔

تاہم حکومت نے جشن بہاراں کےنام سے جو تقریبات شروع کی ہیں وہ ہر خاص و عام کے لیے کھلی ہیں۔

یہ لگاتار پانچواں سال ہے کہ لاہور میں پنجاب حکومت کی طرف سے بسنت کے موقع پر جشن بہاراں کی تقریبات کا اہتمام کوکا کولا کمپنی کے مالی تعاون سے کیا جارہا ہے۔ لاہور میں یہ تقریبات بیس فروری تک جاری رہیں گی۔

پیپسی کولا، نیسلے ، موبائل فون کمپنیاں اور بڑے کاروباری ادارے اپنے طور پر بسنت کی تقریبات کا اہتمام کررہے ہیں۔ ان کمپنیوں نے حکومت کو پیسے دے کر لاہور کی تاریخی عمارتوں جیسے شاہی قلعہ کو بسنت کے روز اپنی تقریبات کے مخصوص کرلیا ہے جہاں صرف ان کے مہمان جا سکیں گے عوام الناس نہیں۔

لاہور کے مینار پاکستان اور گلشن اقبال کے پارک میں بھی مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں کھانے پینے کے اسٹال ہیں، دستکاروں کو کام کرتے دکھایا جاتا ہے اور موسیقی کے پروگرام ہیں۔

سات فروری کی شام لاہور کے ریس کورس پارک میں اس جشن بہاراں کا افتتاح ہوا۔ علاقائی رقص ہوۓ، آتش بازی ہوئی اور دوسرے گلوکاروں کے علاوہ گلوکار ابرارالحق نے ایک گھنٹہ تک اپنے مشہور گیت گاۓ اور ان کے مداح جھوم رہے تھے۔

اب بیس فوری کو لاہور میں یہ سرکاری تقریبات ریس کورس میں اپنے عروج اور اختتام کو پہنچیں گی تو پنجاب کے وزیراعلی پرویز الہی وہاں آئیں گے تو مختلف مقابلوں میں جیتنے والوں کو انعامات دیے جائیں گے ، موسیقی کی محفل ہوگی اور آتش بازی کی جاۓ گی۔

اسکولوں کے بچے قذافی اسٹیڈیم سے ایک قافلہ کی صورت میں اسکولوں کے بینڈز کے ساتھ کچھ پیدل ، کچھ بگیوں میں اور کچھ اسکیٹنگ کرتے ہوۓ یا بائسیکل چلاتے ہوۓ علاقائی لباس پہنے ریس کورس پارک تک جائیں گے۔

بارہ اور تیرہ فروری کو آل پاکستان پتنگ بازی ایسوسی ایشن کے زیر اہمام ریس کورس میں پتنگ بازی کا مقابلہ ہورہا ہے جبکہ مینار پاکستان کے زیرسایہ اقبال پارک میں تو پتنگ بازی کے یہ مقابلہ چھ فروری سے شروع ہوۓ اور بیس فروری تک چلتے رہیں گے۔

تیرہ اور چودہ کی رات اندرون شہر میں حویلی آصف جاہ اور کامران بارہ دری میں موسیقی کی محفلیں ہوں گی اور پندرہ کو الحمرا میں کلچرل کمپلیکس میں بسنت بہار کے نام سے موسیقی اور رقص کا پرگرام ہوگا۔

سولہ فروری سے فورٹریس میں ہارس اینڈ کیٹل شو یا میلہ مویشیاں منعقد کیا جارہا ہے۔

اس بار تو ریس کورس پارک میں پالتو پرندوں کی نمائش بھی بسنت کے ان پروگراموں کا حصہ ہے اور بارہ فروری کو لڑکیوں کے لیے پھولوں کے گلدستے بنانے کامقابلہ بھی منعقد کیا جارہا ہے۔

لاہور کی نہر کے کنارے کینال میلہ شروع ہورہا ہے اور شہر کے نمایاں مقامات کو سجایا جارہا ہے اور خوبصورت روشنیوں سے آراستہ کیا جارہا ہے۔

لاہور کی روایتی بسنت میں پتنگ بازی مرکزی چیز ہے لیکن اس نئی بسنت میں پتنگ ذرا پیچھے رہ گئی ہے۔

چند روز پہلے لاہور کے ناظم میاں عمر محمود پتنگ بازی پر مستقل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا کہ شیشے کے مانجھے سے بنی ڈور اور دھاتی ڈور کے پھرنے سے کئی لوگ مر گۓ یا زخمی ہوۓ۔

آج واپڈا (لیسکو) کے چیف ایگزیکٹو اکرم ارائیں نے آج کہا ہے کہ پتنگیں اڑانے کی اجازت صرف شہر سے باہر کھلے میدانوں میں ہونی چاہیے اور شہر میں بسنت کے موقع پر پتنگیں اڑانے پر مکمل پابندی عائد کی جاۓ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈور سے تاروں کے شارٹ سرکٹ ببنے سے واپڈا کا کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

پتنگ بازی کی جتنی شدید مخالفت ہورہی ہے اس کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ آنے والے دن لاہور کے لوگوں کی روایتی بسنت کے لیے زیادہ اچھے نہیں۔ یہ وقت کوکا کولا بسنت کا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد