BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کبھی تو یہ کٹ کر دور چلی جائے گی

ہر ایک کی نگاہ آسمان پر ہے
ہر ایک کی نگاہ آسمان پر ہے
لاہور کے مینار پاکستان کے پاس گڈی گراؤنڈ میں استاد رفیق کہتے ہیں کہ پتنگ ایک بے وفا معشوق ہے۔ آپ اسے جتنا چاہیں یہ آخر میں آپ کو چھوڑ کر چلی جاۓ گی۔

سچ ہی تو ہے کہ پتنگ کا پیچ ہوگا تو کبھی نہ کبھی یہ کٹ کر ہوا میں تیرتی کہیں سے کہیں چلی جاۓگی۔

یہ بے وفا سہی لیکن لاہور کے پتنگ باز شہر کے بازاروں میں رات گۓ تک اس کی خرید وفروخت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اندرون موچی دروازہ پتنگو ں کا ہالی وڈ ہے اس کے تنگ بازار میں ایک کے ساتھ ایک جڑی کئی منزلہ دکانیں رنگ برنگ پتنگوں اور ڈور کے پنوں سے لدی پڑی ہیں۔

پتنگ کے کھلاڑی ڈھیروں کے حساب سے پتنگیں اور ڈور کے پنے اور چرخیاں خریدتے نظر آتے ہیں لیکن ہر پتنگ کو تول کر اس کا توازن دیکھ کر کہ یہ کنی تو نہیں کھاتی اور ڈور پر انگلی پھیر کر اندازہ لگاتے ہوۓ کہ اس کا مانجھا نرم تو نہیں پڑ گیا۔

پتنگ کی تابعداری
ایک اچھی پتنگ وہ ہے جو اڑانے والے کی تابعدار ہو۔ اس کو بننے والا اس میں یہ خوبی پیدا کرتا ہے کہ یہ پتنگ فضا میں بلند ہوکر اُڑانے والے کا کہنا مانے
استاد فن

ہر موقع اور ہر موسم کے لیے پتنگ کی الگ الگ قسمیں ہیں۔ ایک تو پتنگ ہے اور دوسرے گڈی۔ ماہر کھلاڑی عام طور سے پتنگ یا کُپ اڑاتے ہیں اور اس کے پیچ لڑاتے ہیں۔ پتنگ آٹھ کے ہندسے سے ملتی جلتی شکل کی ہوتی ہے جبکہ ُکپ ایسی پتنگ ہوتی ہے جس کا نچلا حصہ خاصا چوڑا ہوتا ہے۔

تکونی شکل کو گڈا یا گڈی کہتے ہیں۔ مذکر گڈے کی آدھی تکون کی چھوٹی سی دم ہوتی ہے جبکہ مؤنث گڈی کی دم ذرا بڑی ہوتی ہے۔ رات کو صرف سفید رنگ کی پتنگ یا گڈی اڑائی جاتی ہے۔

رنگوں ، شکلوں اور پتنگ کی اڑتے وقت آواز کی مناسبت سے اس کی او ربھی قسمیں ہیں جیسے پری، مچھر، تیرا، شسترو، گلہری ، پد وغیرہ۔ مچھر پتنگ ہوا میں اڑتے ہوۓ مچھر کی طرح بھیں بھیں کی آواز پیدا کرتا ہے۔

پتنگ بازی کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اچھا پتنگ باز جانتا ہے کہ مختلف موسموں میں کس قسم کی پتنگ اڑانی ہے۔ جب ہوا تیز ہو تو چھوٹی پتنگ اور بھاری ڈور استعمال کی جاتی ہے اور جب ہوا ہلکی ہو تو بڑی پتنگ اور ہلکی ڈور۔

پتنگ کو ہاتھ سے ناپا جاتا ہے جسے لاہور میں گٹھ کہتے ہیں۔ لاہور میں ایک پتنگ آدھی گٹھ سے لے کر پچاس گٹھ تک ہوسکتی ہے۔ ماہر پتنگ باز عام طور پر پانچ سے آٹھ گٹھ کی پتنگ اڑاتے ہیں۔ پہلے عام طور پر کھلاڑی چار گٹھ کی پتنگ اڑایا کرتے تھے لیکن اب چھوٹی پتنگ اڑانا پنسد نہیں کیا جاتا۔

پتنگ کاغذ اور بانس کی لکڑی سے بنائی جاتی ہے۔ اچھی پتنگ کا کاغذ جرمنی سے آتا بنگلہ دیش سے آیا ہوا بانس پتنگ بنانے کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ایک عام کاریگر ایک دن میں درجنوں پتنگیں بنالیتا ہےلیکن جو ماہرین ہیں اور پیشہ ور کھلاڑیوں کے لیے پتنگیں بناتے ہیں وہ ایک دن میں دو سے زیادہ پتنگیں نہیں بناتے۔ اب بڑےکاروباری اداروں کی نظریں اس پر جمی ہیں کہ وہ پتنگوں کو مشینوں سے بڑے پیمانے پر بنائیں اور اسے دستکاری سے صنعت بنادیں۔

اساتذہ فن کا کہنا ہے کہ ایک اچھی پتنگ وہ ہے جو اڑانے والے کی تابعدار ہو۔ اس کو بننے والا اس میں یہ خوبی پیدا کرتا ہے کہ یہ پتنگ فضا میں بلند ہوکر اُڑانے والے کا کہنا مانے۔

ایک اچھی پتنگ وہ ہے جو اس سمت میں جاۓ جس سمت میں اسے اڑانے والا لے جانا چاہتا ہے۔ صرف یہی نہیں اچھی پتنگ وہ ہے جو ہوا میں جا کر اڑانے والے سے دُور بھاگتی چلے جاۓ اور کہے کہ مجھے اور ڈور دو ، او ڈور دو۔

اچھی پتنگ بنانے گُر اساتذہ کے سینوں میں ہیں۔ جو بات سب کو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ پتنگ کا معیار اس کے چار بانس کی لکڑیوں میں ہے جس سے کاغذ کو چپکایا جاتا ہے۔ اس بانس کو سرسوں کے تیل میں بھگو کر رکھا جاتا ہے تاکہ اس میں لچک پیدا ہو اور پھر انھیں سُکھانے کے لیے دھوپ میں یا گرمایش کے قریب رکھا جاتا ہے۔

بانس کو جس نفاست سے چھیلا جاۓ گا پتنگ اتنی اچھی بنے گی۔ بانس کو اس طرح چھیلا جاۓ اور انہیں اس طرح موڑا جاۓ کہ بانس کے اندر کا گودا خراب نہ ہوجاۓ۔ پتنگ کی طاقت کا انحصار بانس کے اسی گودے پر تو ہے۔ جو عام پتنگ بنتی ہے اس میں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا اس لیے اس میں اور کھلاڑیوں کی پتنگ کے معیار میں فرق ہوتا ہے۔

پتنگ کی ڈور روئی کے دھاگہ پر شیشے کے پاؤڈر کو مل کر بنائی جاتی ہے۔ پرانے لاہور کے گرد جو باغ ہے اس میں ڈور بنانے والوں کے اڈے ہیں جو دو موٹی موٹی لکڑیاں کچھ گز کے فاصلہ پر گاڑ کر ان کے درمیان تاگے کس دیتے ہں اور پھر شیشسے اور گوند سے بنا ملیدہ اس پر ایک سرے سے دوسرے پر ملتے جاتے ہیں اور یوں سارا دن میں میلوں کا سفر ایک چھوٹی سے جگہ میں طے کرلیتے ہیں۔

ڈور وہ اچھی ہے جو سو فیصد روئی کے دھاگے سے بنی ہو ، اس پر ملے گۓ شیشہ کا معیار اعلی ہو اور ڈور بانے والے کاریگر نے جب شیشہ دھاگہ پر پالش کیا تو اس نے اس پر اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ ڈور کی کاٹ کا پتنگ باز کی ہار جیت میں اہم کردار ہے۔

لاہورمیں مکانوں کی چھتوں پر پتنگیں اڑانے والے تو شوقح پیچ لڑاتے ہیں لیکن مینار پاکستان کے پاس تاریخی گڈی گراؤنڈ پتنگ بازوں کا اص اسٹیڈیم ہے جہاں پتنگ اڑانا ا رپیچ لڑانا ایک عزت کی بات ہے۔ یہاں کھلاڑیوں میں اور اساتذہ میں پتنگ بازی کے مقابلے ہوتے ہیں اور انعامات اور ٹرافیاں تقسیم ہوتی ہیں۔

لاہور میں پتنگ بازوں کی ٹیمیں ہیں جن کے آپس میں مقابلے منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ جب شاگرد کھیل میں ماہر ہوجاۓ تو استاد اس کو پگڑی باندھتا ہے اور جس کو پگڑی بندھ جاۓ وہ اپنے شاگرد بنانا شروع کردیتا ہے۔

پتنگ بازی ایک کھیل ہے ، ایک آرٹ ہے جس کو سیکھنا پڑتا ہے اور مشق کرنی پڑتی ہے۔ اس کے مقابلوں کے لیے قواعد و ضوابط ہیں۔

ایک پتنگ کو ہوا میں اڑاتے ہوۓ ایک یا دو میل دور تک لے جانا ایک مہارت کا کام ہے۔ اس کے لیے ڈور کو خاص طریقے سے سنبھالنا پڑتا ہے جس میں انگلیاں، ہاتھ اور بازو کی حرکت پر قابو رکھنا ہوتا ہے۔

پتنگ بازی کے مقابلہ دو پتنگ باز ایک دوسرے سے کچھ فاصلہ پر ایک چھوٹے سے کپڑے پر کھڑے ہوتے ہیں اور اس سے باہر نہیں جاسکتے۔ وہ دونوں اپنی پتنگوں کی ڈوریں ایک دوسرے پر سے گزارتے ہیں اور یوں پتنگوں کا پیچ پڑجاتا ہے۔

اس مقابلہ میں ایک پتنگ باز اپنی پتنگ اور ڈور کو آگے کی طرف لےجاسکتا ہے لیکن پیچھے کی طرف نہیں لاسکتا۔ جس کی پتنگ کی ڈور کٹ جاۓ وہ جیت گیا۔ اس مقابلہ میں پتنگ باز ایک جھٹکے سے دوسرے کی پتنگ کی ڈور نہیں کاٹ سکتا۔ پتنگ باز صرف اپنی ڈور کو ایسے تیزی سے آگے بڑھا سکتا ہے کہ دوسری ڈور پر ا س کی کاٹ لگے اوروہ کٹ جاۓ۔

پتنگ بازی کے دنگلوں کی مختلف قسمیں ہیں۔ ایک تو روایتی قسم ہے جو آگو دنگل کہلاتا ہے جس میں دو پتنگ باز ایک سال تک ایک دوسرے سے پیچ لڑاتے رہتے ہیں اور بوں مقاموں میں سے جو سب سے زیادہ پیچ جیتے وہ کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔

اب کرکٹ کی دیکھا دیکھی ایک روز مقابلے بھی ہوتے ہیں جن میں دو ٹیمیں ایک دوسرے سے گیارہ یا اکیس پیچ لڑاتی ہیں اور ہر ٹیم گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

لاہور میں پتنگ بازی کا کھیل بسنت کا محور ہے جس کے گرد پورا تہوار سجایا گیا ہے۔ گڈی گراؤنڈ کے استاد رفیق کے لیے پتنگ ایک بے وفا معشوق سہی لیکن وہ یہ بسنت کے تہوار کی تو دلہن ہے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ لاہور کےلوگ بسنت سے پہلے بسنت کی مہندی بھی کرنے لگے ہیں اور اس کا ولیمہ بھی کیاجاتا ہے۔

جیسے دلہن کے بغیر بارات نہیں ہوسکتی گڈی بازی کے بغیر بسنت کا تہوار کم سے کم لاہور میں تو نہیں ہوسکتا، بجلی والےکتنا شور کیوں نہ مچائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد