بسنتی رنگ پر خون کے چھینٹے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یہ خدا کی مرضی تھی ہم کوئی مقدمہ درج کرانا چاہتےہیں نہ نعش کا پوسٹ مارٹم کرانا ہے ‘ دھاتی تار میں الجھ کر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے والے لاہور بائیس سالہ ناصر جاوید کے ورثا نے یہ تحریر لکھ کر مقامی تھانے میں دی جس کے بعد ہی انہیں اس کی کرنٹ سے سوختہ نعش بغیر پوسٹ مارٹم کے دیدی گئی تھی۔ ناصر جاوید کے ورثا مقدمہ درج کراتے بھی تو کس کے خلاف؟ نجانے کس نے یہ دھاتی تار بنائی ہوگی؟کس نے قاتل پتنگ اڑائی؟ اور کس نے کاٹی ہوگی؟ با ئیس سالہ ناصر جاویدکی طرح ہرسال متعدد بےگناہ افراد بے نام ہاتھوں سے نکلنے والی ان خونی ڈوروں ،دھاتی تاروں اور اندھی گولیوں کا شکار ہوجاتےہیں لیکن انکے ورثا کسی کے ہاتھ پر ان کے خون کے نشان تلاش نہیں کرپاتے ۔ پنجاب میں روائتی تہوار بسنت کا آغاز ہو گیا ہے لیکن اس سے منسلک حادثات اور اموات کا آغاز اس کےسا تھ ہوا ہے۔ لاہور میں اس سال اب تک درجن بھر سے زائد افراد پتنگ بازی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور یہ ہلاکتیں جاری ہیں۔ یوں تو بسنت لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ ،سیالکوٹ ، فیصل آباد ،راولپنڈی ،اسلام آباد ، قصور ، ملتان ،اوکاڑہ ، جھنگ سمیت لاہور کے مختلف شہروں میں منائی جاتی ہے لیکن ان کے دن الگ الگ ہوتے ہیں اور ہلاکتوں کی شرح بھی الگ الگ رہتی ہے۔ پنجاب میں ہر سال اوسطا کم از کم آٹھ افراد بسنت کے صرف ایک دن میں ہلاک ہوتے ہیں جبکہ پورے بسنت سیزن کے دوران ہلاک ہونے والو ں کی مجموعی تعداد اس سے کئی گنا ہوتی ہے۔ مثال کے طور گزشتہ برس لاہور میں میں بسنت کے صرف ایک دن میں دس افراد ہلاک ہوۓ تھے جبکہ مقامی ضلعی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس پورے سیزن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بیالیس تھی۔ پتنگ بازی کا محور لاہور ہے اور سب سے زیادہ افراد بھی لاہور میں ہی ہلاک ہوتے ہیں۔ دس سال کے دوران صرف بسنت کےدن ہونے والے حادثات کو لاہور کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق شمار کیا گیا تو معلوم ہوا کہ دس برس کے ان دس دنوں میں پچپن افراد پتنگ بازی کےباعث لقمہ اجل بنے۔ لاہور کے اخبارات ’بسنتی رنگ پر خون کے چھینٹے، سات ہلاک 150 زخمی ‘ ’بسنت دیوی کو تین لاشوں اور دو سو زخمیوں کی نذر‘ جیسی شہ سرخیوں کے ساتھ احتجاج ریکارڈ کراتے رہے اعلٰی عدالتوں میں اس تہوار پر پابندی کے لیے رٹ بھی دائر ہوتی رہیں لیکن اس تہوار پر کبھی پابندی نہیں لگی تھی بلکہ اس کو سرکاری سرپرستی میں منایا جانے لگا اور حکمران بھی ذاتی طور پر بسنت کے تہوار کو منانے لگے ۔ پابندی کا پہلافیصلہ گزشتہ برس گوجرانوالہ میں مجلس عمل کے حمائت یافتہ ضلعی ناظم نے کیا۔ جبکہ راولپنڈی کےضلعی ناظم نے، اس حقیقت کے باوجود کہ صدر پرویز مشرف لاہور کے بسنت میلہ میں ذاتی طور پر شریک ہوۓ تھے راولپنڈی میں اس تہوار کے منانے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ گزشتہ برس ان دو پابندیوں کے بعد پتنگ بازی کے مرکز لاہور میں بھی بسنت مخالف حلقوں کا حکومت پر دباؤ بڑھتا گیا۔ پتنگ بازی کے نتیجہ میں لاہور اور اس کے گردو نواح میں ہلاکتیں بھی ہو رہی تھیں، راہ گیروں کے گلے کٹ رہے تھے ،دھاتی تار میں الجھ کر لوگ کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو رہے تھے چھت سے گرکےاور گاڑی کے نیچے آکر پتنگ باز دم توڑ رہے تھے ۔ سنء دوہزار تین جون کی پتنگ بازی کی آخری موت مکھن پورہ کے تین سالہ فہیم کی تھی جو اپنے والد کے ساتھ سکوٹر پر جا رہا تھا کہ مانجھا لگی ڈور اس پر آگری اس کا گلا کٹ گیا خون کے فوارے پھوٹ پڑے اور کسی طبی امداد ملنے سے پہلے ہی اس نے اپنے والد کی گود میں آخری ہچکی لے لی۔ اس ہلاکت کے فوری بعد پتنگ بازی پر پابندی کا اعلان ہوگیا ۔ یکم جولائی سن دو ہزار تین سے لاہورمیں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن اس سال بیس فروری سے ایک ماہ کے لیےپابندی ہٹائی گئی تو پتنگ بازی کے ساتھ ہی ہلاکتیں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ ہلاکتیں بہار کے بسنتی رنگ میں سرخ رنگ کی آمیزش کرتی جا رہی ہیں اور بتا رہی ہیں کہ زندہ دلان کا شہرہر سال خوشیاں منانے کی کتنی بھاری قیمت ادا کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||