BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 15:06 GMT 20:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بسنت آخر سرحد میں کیوں نہیں

صوبہ سرحد میں بسنت کا بو کاٹا
صوبہ سرحد میں بسنت کا بو کاٹا
پنجاب شاید ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں ہر سال موسم بہار کی آمد کو خوش آمدید کہنے کے لئے بسنت کا رنگین تہوار منایا جاتا ہے۔ دوسرے صوبوں میں حالات قدرے مختلف ہیں۔ چھوٹے موٹے تہوار منعقد تو ہوتے ہیں لیکن بسنت جیسے انداز، پیمانے اور میعار کا نہیں۔ آخر اس کی کیا وجوہات ہیں۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سرحد میں بھی مختلف علاقوں میں مختلف نوعیت اور اوقات میں تہوار اور میلے منعقد کئے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں شاید کوئی بھی پنجاب میں موسم بہار کی آمد پر بڑے پیمانے اور سرکاری سرپرستی میں منائے جانے والے بسنت کے تہوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ جشن خیبر اور جھنڈوں کا میلہ ایسے بڑے مواقعے تھے جن پر خوشیاں منایا کرتے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان میلوں کی روایت کمزور پڑتی رہی اور اب تقریبا ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ بزرگ صحافی اور دانشور یونس قیاسی نے اسی ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ یہ تہوار منانے کے قابل نہیں رہے۔ ’یہاں جھنڈوں کا میلہ ایک بڑی پرانی روایت تھی۔ اس کے علاوہ کتوں، مرغوں اور انڈوں کی لڑائیاں اکثر ہوا کرتی تھیں۔ آتش بازی بہت مقبول رہی لیکن پتنگ بازی کا رجحان کم رہا۔’

اس کی تصدیق پشاور میں لاہوری دروازے میں پتنگیں فروخت کرنے والے ایک دوکاندار محب اللہ نے بھی کی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہاں کہ پٹھان پتنگ بازی میں ذیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس نے بتایا کے عید کے موقعے پر وہ صرف تین سو روپے کی پتنگیں فروخت کر سکا ہے جس سے لوگوں کے شوق کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ’ایک یا دو روپے سے ذیادہ قیمت کی پتنگ کوئی خریدتا ہی نہیں۔ یا ذیادہ سے پانچ دس کی۔’

اس کا بھی ماننا تھا کہ پتنگ بازی کا شوق کوئی اچھی چیز نہیں۔ ’بچوں کے ساتھ حادثے ہوجاتے ہیں۔ زخمی یا ہلاک ہوجاتے ہیں وہ اس لئے میرے خیال میں یہ کام اچھا نہیں۔’

پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی لوگوں کو اس شوق سے دور رکھتی ہیں۔ پتنگ خریدنے کے لئے آئے ایک بارہ سالہ لڑکے حسان طاہر کا کہنا تھا کہ وہ دن میں والدین سے ملنے والے پانچ روپے سے آج کل یہی شوق پورا کر رہا ہے۔ ’بس انہی دنوں میں کچھ پتنگ بازی کر لیتے ہیں ورنہ نہیں۔’

صوبہ سرحد کے معاشرے کو قدامت پسند تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں اجتماعی موج میلے کا رجحان کم ہی رہا ہے۔ تو کیا اسلام میں تفریح پر کوئی پابندی ہے اس کی نفی پشاور یونیورسٹی کے اسلامک سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی۔ ’اسلام تفریع پر کوئی پابندی نہیں لگاتا بس صرف اس کے لئے چند اصول اس نے وضع کئے ہوئے ہیں اگر ان کے اندر رہ کر تہوار منائے جائیں تو کوئی مزائقہ نہیں۔ اسلام تو تیر اندازی جیسے شوق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔’

دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کی حکومت کے آنے سے اس گھٹن میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پہلے پہل جو اکا دوکا موسیقی کے پروگرام ہوا کرتے تھے وہ بھی بند ہوچکے ہیں، نشتر ہال میں جس بھی متنازعہ نوعیت اور میعار کے پروگرام منعقد کئے جاتے تھے ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ تو کیا ایسے حالات میں بسنت جیسا کوئی تہوار صوبہ سرحد میں موجودہ حالات میں ممکن ہے یہی سوال میں نے صوبائی وزیر ثقافت راجہ فیصل زمان سے کیا تو انہوں نے کہا کہ اس قسم کا عوام کی جانب سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ’اگر عوام میں ہی اس کا شوق نہیں تو حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ ہمارا معاشرہ کافی مذہبی رہا ہے اور یہاں شاید لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔’

دنیا بھر میں اس قسم کے تہوار کروڑوں روپے کی صنعت بن چکے ہیں۔ لیکن چونکہ صوبہ سرحد میں ابھی اتنی معاشی خوشحالی نہیں آئی لہذا بسنت جیسے تہوار کو فروغ دینے والے کاروباری طبقے کی نظریں بھی اس علاقے پر نہیں پڑی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد