لاہور کی بسنت میں ایسا کیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کی بسنت کی دیکھا دیکھی اب دبئی میں بھی بسنت کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ آگرہ میں بسنت کے تہوار کو سرکاری طور پر منانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ لیکن لاہور کی بسنت میں وہ خاص بات ہے جو اور کسی جگہ نقل نہیں نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ لاہور کی بسنت میں پتنگ بازی مرکزی نکتہ ہے۔ اس شہر میں پتنگ بازی ایک ایسا شوق ہے جیسے اودھ کے لکھنؤ میں شاعری۔ لاہور کے اندرون شہر کے رہنے والے پتنگ کے دیوانے ہیں اور پتنگ کا رتبہ ان کے ہاں ایک محبوبہ سے کم نہیں۔ پتنگ تو دنیا کے بہت سے ملکوں میں اڑائی جاتی ہے لیکن اس شہر میں گڈی بازی کو جو چیز دوسرے ملکوں کی پتنگ بازی سے منفرد کرتی ہے وہ ہے پتنگ کے پیچ لڑانا۔
لاہور میں پتنگ اڑانے کے لیے شیشہ کے مانجھا لگا ہوا دھاگا ، جسے ڈور کہتے ہیں، استعمال ہوتا ہے جکہ دوسرے ملکوں میں سادہ دھاگہ سے پتنگیں اڑائی جاتی ہیں۔ لاہور کی ڈور پتنگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی چیز ہے۔ اس مقابلہ میں پتنگ کا کٹنا اور ایک فریق کا ہارنا اور دوسرے کا جیتنا جس جوش و ولولہ کو جنم دیتا ہے وہ اس وقت بہت ہی خاص چیز بن جاتا ہے جب ہزاروں لاکھوں لوگ اپنی چھتوں اور میدانوں میں کھڑے ہوکر ایک دن ایک ہی وقت میں پیچ لڑاتے ہیں اور خوشی کے نعرے بلند کرتے ہیں اور یہ دن ہوتا ہے بسنت کا دن۔ بسنت کے روز پتنگ اڑانا عام لوگوں کا مشغلہ تھا۔ ماہر پتنگ باز اس سے دور رہتے ہیں۔ اس دن لاہور کے پیشہ ور پتنگ باز پیچ نہیں لڑاتے کہ ہنگامے میں کھیل کے اصولوں اور قواعد پر زیادہ سختی سے عمل نہیں ہوتا اور خوشی اور سرمستی کے عالم میں کھیل کے ضوابط کی خلاف ورزی پر کوئی خاص دھیان نہیں دیا جاتا۔ لاہور میں جس ذوق و شوق سے پتنگ کا کھیل کھیلا جاتا ہے اس کا ٹھیک اندازہ تو اسی شخص کو ہوسکتا ہے جو شہر کے اندرون علاقہ میں رہا ہو۔ یہاں پتنگ اڑانا محض ایک مشغلہ نہیں ایک دیوانگی ہے۔ لاہور کے گلی محلہ کا ایک بچہ جیسے منہ اندھیرے آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے اپنی چھت پر بجلی کی طرح لپکتا ہے اور گزشتہ رات کی لوٹی پتنگ کو ہوا میں بلند کرکے گھنٹوں اس کےمزے لوٹتا ہے اور ماں کی بے نطق سن کر اسکول کا رخ کرتا ہے اس کی پتنگ کے لیے جو دیوانگی ہے وہ شائد ہی دنیا میں کسی اور جگہ موجود ہو۔ لاہور میں گرمیوں کے ختم ہوتے ہیں جس بڑی تعداد میں گڈیاں اڑائی جاتی ہیں وہ بے مثال ہے۔ پتنگ ہندوستان میں بھی اڑائی جاتی ہے اور آگرہ، دلی اور امرتسر میں بھی یہ کھیل کھیلا جاتا ہے لیکن جس بڑے پیمانے پر اہالیان لاہور گڈی اڑاتے اور اس کے پیچ لڑاتے ہیں اس میں یہ شہر اس کا مقابلہ نہیں کرتے۔ اندرون شہر میں ایک سے ایک جڑے مکانوں کی پتلی دیواروں پر بچے کٹی ہوئی پتنگ لوٹنے کے لیے جس بے خوفی اور برق رفتاری سے دوڑتے چلے جاتے ہیں اور سڑک پر ٹریفک کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ دوڑتے چلے جاتے ہیں وہ انہی کا خاصہ ہے۔ ہر سال سینکڑوں لوگ اس خطرناک کھیل میں زخمی ہوتے ہیں لیکن اس شوق میں کمی نہیں آتی۔ شیشے کے پاؤڈر سے سے ملی ڈور سے پتنگوں کے پیچ لگاۓ جاتے ہیں اور ہوا میں تنی پتنگ جب ہاتھ کی انگلیاں زخمی کرتی ہیں تو ان کو چیروں کا نام دیا جاتا ہے اور ہاتھ کی جتنی انگلیاں ان چیروں سے بھری ہوں اور دوبارہ پتنگ اڑاتے ہوۓ ان چیروں میں ڈور سے زخم اور گہرا ہوجاۓ اور تکلیف دے وہ ایک پتنگ باز کے لیے باعث اذیت نہیں فخر و مسرت کا مقام ہوتا ہے۔ پھر کیوں نہ کہیے کہ لاہور میں پتنگ ایک لیلیٰ ہے اور یہاں کے رہنے والے اس کے مجنوں۔ اس لیلی کے بہت سے نام ہیں اور بہت سے روپ۔ یہ پتنگ ہے، گڈا ہے، گڈی ہے، مچھر ہے ، پری ہے اور پرا ہے، کپ ہے اور پھپھڑ دان ہے۔ پتنگوں کی شکلوں اور ان کو اڑان سے نکلنے والی آوازوں پر رکھے گۓ یہ نام محض چند ہیں اور اڑانے والے ان کی ان گنت قسمیں بتاتے ہیں۔ لاہور میں گڈی بازی کی اپنی جو پوری لغت ہے اور پیچ لڑانے کیے جو قواعد و ضوابط ہیں ان کی بوطیقا شاعری کی بوطیقا سے کم نہیں۔ دانشور ثروت علی کے بقول لاہور کی بسنت کے لیے یہ کیا کم اعزاز ہے کہ یہ ا س ملک کا واحد تہوار ہے جسے اب دوسرے ملک بھی اپنے ہاں درآمد کرنا چاہتے ہیں اور جس کی کشش میں چار عالم سے لوگ یہاں کھنچے چلے آتے ہیں۔ مغرب نے اور اس کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے دنیا میں یورپ اورامریکہ کے تہواروں اور رسموں کو فروغ دیا۔ بسنت پاکستان ایسے کم مایہ ملک کا واحد تہوار ہے جسے مغرب کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنا لیا۔ اب چند سال سے یہ بسنت کارپوریٹ ہوگئی ہے لیکن اس کا اصل جس سے پورے تہوار نے جنم لیا ہے پرانے شہر کی پتنگ سے محبت ہے۔ جب دنیا کا کوئی شہر پتنگ سے اہالیان لاہور ایسی محبت کرنے لگے گا شائد وہاں کی بسنت میں بھی کوئی رنگ آجاۓ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||