BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بسنت پر ہلاکتوں کا سلسلہ کب تک

 کیمیکل یا مانجھا لگی ڈور کئی اموات کا باعث بنی ہے۔
کیمیکل یا مانجھا لگی ڈور کئی اموات کا باعث بنی ہے۔
پتنگ بازی میں ہونے والی ہلاکتیں عام طور پتنگ کٹ جانے کے بعد پیش آنے والے حالات کے باعث پیش آتی ہیں۔

پتنگ جب تک اڑتی ہے تب تک وہ زندگی کی علامت ہے اور جب اس کی ڈور کٹ جاتی ہے تو کبھی کبھی وہ موت بن کرگرتی ہے۔

اس کٹی پتنگ کے ساتھ اگر دھاتی تار ہو تو خون خشک کرنےاورجھلسا دینے والا کرنٹ جان لے لیتا ہے۔

اس کٹی پتنگ لوٹتے ہوۓ اگر کوئی سڑک پر آجاۓ اور اس توجہ ٹریفک سے ہٹ کر صرف پتنگ پر مرکوز رہ جاۓ تو کوئی گاڑی جان لے سکتی ہے۔

اور کچھ نہیں تو کیمیکل یا مانجھا لگی ڈور کسی موٹر سائیکل سوار کی گردن کاٹ کر اس جان لے لیتی ہے۔

پتنگ بازی موت کا کھیل کیوں بن گئی ہے ؟اور ایسی کونسی وجوہات پیش آئیں کہ صدیوں پرانے اس کھیل پر پابندی عائد کر دی گئی؟

پہلی بات تو یہ اس زمانہ میں نہ تو اونچی چھتیں ہوتی تھیں جہاں سے لوگ گر کر ہلاک ہوں نے تیز رفتار گاڑیوں کا ہجوم تھا اور نہ کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ ہوتی تھی۔

دھاتی اورکیمیکل لگی ڈور جیسی اختراعات بھی نہیں تھیں۔

سب سے زیادہ اموات دھاتی تار کے باعث ہو رہی ہیں جو لوگ پتنگ بازی سے واجبی دلچسپی رکھتے ہیں یا ان کا پتنگ بازی سے دور کا بھی تعلق نہیں ان میں سے بیشتر کو یہ جان کر ضرور حیرت ہوگی کہ دھاتی تارکا مقصد اپنی پتنگ کو مضبوط ڈور سے اڑانا یا پھر دھاتی تار سے دوسروں کی پتنگ کاٹنا نہیں بلکہ صرف اور صرف ہوا میں تیرتی کٹی پتنگیں لوٹنا ہے۔

دھاتی تار سے پتنگیں اڑانے والے ’فضائی قذاق‘ اسے’ کلچ‘ کہتے ہیں۔کلچ کہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ کاروں موٹر سائکلوں کی کلچ ،ایکسیلیٹر وغیرہ کی ناکارہ تاروں سے بنائی جاتی۔

کلچ کی تار جو سولہ باریک تاروں کا مجموعہ ہوتی ہے اسے کی ہر ایک باریک تار الگ کر کے آگے پیچھے جوڑی جاتی ہے اور تقریبا ایک ایک فٹ کے فاصلے پر تار کی گرہیں باندھی جاتی ہیں ۔اور پھر اسے ایک مضبوط دھاگے جسے تندی کہا جاتا ہے کہ گرد لپیٹ دی جاتی ہے اس طرح پتنگ کا بوجھ دراصل ’تندی‘نے اٹھایا ہوتا ہے۔

ایک فضائی قذاق محمد طاہر نے بتایا کہ’ ہوا میں تیرتی کٹی پتنگ کے اس دھاتی تار سے چھونے کی دیر ہے وہ اس میں الجھ جاۓ گی اور پھر وہ آپ کی ہے ۔‘

لیکن کٹی پتنگ کو ہوا میں ہی اچک لینے والی دھاتی تار والی پتنگ جب خود کٹ جاتی ہے تو پھر یہ کسی کی بھی جان اچک لینے والی ایک پتنگ بن جاتی ہے۔

اس کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو پتنگ اڑانا جانتے ہیں نہ ان کا مقصد پتنگ لوٹنا ہوتا ہے ۔

لیکن یہ دھاتی تاران پر موت بن کر گرتی ہے اور وہ اس کی گرہیں لگی تار میں کٹی پتنگ کی طرح الجھ جاتے ہیں اور اس میں سے نکلنے کی کوشش میں وہیں پھڑ پھڑا کر دم توڑ دیتے ہیں۔

ڈور سے شہ رگ کٹ جانے واقعات بھی جدید پتنگ بازی کا نتیجہ ہیں

کیمیکل عام دھاگے پر نہیں بلکہ صرف مچھلی پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والی نا ئیلون کی مضبوط ڈوری پر لگایا جاتا ہے۔

کیمیکل ڈور کو استعمال کرنے والے ہاتھ پر کپڑا یا چمڑا لپیٹ کر پتنگ اڑاتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے ہاتھ کٹ جاتے ہیں۔

اس کا اندازہ مشکل نہیں کہ اگر اس قدر مضبوط اور کاٹ دار ڈور اگر تیز چلتی موٹر سائیکل سوار کی گردن کے گرد لپٹ جاۓ تو گردن کا کیا حال ہوتا ہوگا۔

اگرچہ پتنگ ساز تنظیموں کے نمائندے کہتے ہیں کہ گلے کٹ جانے کے واقعات صرف کیمیکل لگی ڈور کے گردن پر پھر جانے سے پیش آرہے ہیں لیکن یہ آدھا سچ ہے اور پورا سچ ہی ہے کہ تیز چلتی موٹر سائیکل سوار کی گردن یا کسی جسم کے کسی حصے پر عام مانجھا لگی ہلکی سے ہلکی ڈور بھی تیزی سے پھر جاۓ تو انسانی نرخرہ کاٹنے کے لیے کافی ہے۔

گزشتہ برس لاہور کے گڑھی شاہو پل پر تین چار موٹر سائیکل سواروں کی یکے بعد دیگرے پتنگ کی ڈور گردن پر پھر جانے سے اس لیے ہلاک ہوۓکہ ہ اس پل کے کناروں پر بجلی کے کھمبے اور تاریں نہیں تھیں اور کٹنے والی پتنگ کی ڈور براہ راست سڑک پر گر جاتی تھیاور ہلاکتوں کا سبب بن رہی تھی۔ پتنگ سازوں نے اس پل کے دونوں اطراف پر بانس لگا کر اور ان پر تاریں باندھ کر ہلاکتوں کو روک دیا تھا لیکن تب یہ اندازہ بھی ہوا کہ اگر لاہور میں بھی اسلام آباد کی طرز پر بجلی کی تاریں زیر زمین ہوتیں تو ہلاکتوں کی شرح کئی گنا زیادہ ہو سکتی تھی۔

ہلاکتوں کی ایک وجہ دوسروں کی پتنگ کاٹنے کی خوشی میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ بھی ہے جس کا نشانہ عام طور پر بےگناہ اور لاتعلق افراد بنتے ہیں تاہم زیادہ تر ہوائی فائرنگ صرف بسنت کے روز ہوتی ہیں۔

پتنگ لوٹتے یا اڑاتے ہوۓ چھت سےگرجانے کی ہلاکتیں اپنی نوعیت کی پرانی ترین ہیں جبکہ سڑک پر پتنگ لوٹتے ہوۓ گاڑیوں کے نیچے آنے کی روائت بھی لٹیروں نے برقرار رکھی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد