بسنت کے بدلتے رنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بسنت دن سے رات میں گئی ، عوام سے خواصں میں آئی اور مردوں سے عورتوں میں۔ یہ سب کچھ پندرہ بیس سال میں ہوا ہے۔ آج سے بیس بائیس سال پہلے بسنت لاہور کا ایک عو امی تہوار تھا۔ شہر کے کھاتے پیتے لوگ اس میں شامل نہیں تھے بلکہ عام طور پر اسے عامیانہ تفریح سمجھتے تھے۔ شہر میں صرف گنتی کے چند مخیر افراد تھے جو بسنت کے ماہر کھلاڑیوں کے دنگلوں کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ بیس بائیس سال سے بسنت بہت بڑے پیمانے پر منائی جانے لگی۔ اس تہوار کے منانے میں بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب عرب ملکوں میں گۓ مزدور اور کاریگروں میں خوشحالی آئی۔ یہ طبقہ روایتی طور پر پتنگ بازی کا شوقین اور بسنت منانے والے لوگوں کا تھا۔ ان کے پاس پیسہ آیا تو بسنت بھی چمکنے لگی۔ بسنت جو صرف دن کے وقت گڈی بازی کرکے منائی جاتی تھی اب رات کو مرکری بلبوں اور فلڈلائٹس کے ساتھ منائی جانے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے لوازمات بھی بڑھ گۓ۔ قیمے کے نانوں ، بوتلوں اور کشمیری چاۓ سے مہمانوں کی تواضع ہونےلگی۔ اسی کی دہائی میں جب جنرل ضیاالحق نے اسلام پر زور دینا شروع کیا تو کرکٹ کے میچ اور بسنت کا تہوار دو ایسی چیزیں تھیں جن کو بہت فروغ ملا اور ان دونوں کا مذہب سے تعلق نہیں۔ لاہور کی بسنت ایک غیر مذہبی تہوار ہے گو ہندوستان میں اس کا مذہبی پہلو بھی ہے۔ اب دس بارہ برسوں سے کاروباری اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر نے بسنت منانا شروع کردی اور اس میں پیسہ ڈالنا شروع کردیا۔ لاہور میں لاکھوں خاندان یہ تہوار مناتے ہیں اور اتنے بڑے پیمانے پر پتنگ بازی ہوتی ہے جس سے صارفین کی ایک بڑی اور آسان منڈی دیکھ کر بڑی کارپوریشنوں کے منہ میں بھی پانی آنے لگا ہے۔ لاہور میں حکومت کی طرف سے جشن بہاراں کی تقریبات ہوں یا شہر کی تاریخی عمارات میں کیے جانے والی نجی بسنت پارٹیاں کوئی نہ کوئی ملٹی نیشنل اس میں شامل ہے جن کے پاس لاکھوں اور کروڑوں روپے کے بجٹ ہیں۔ اب بسنت اونچے طبقہ کا تہوار بن بھی گیا ہے۔ روایتی اور عوامی بسنت میں پتنگ بازی کو مرکزی اہمیت ہے جبکہ اونچے طبقہ کی کارپوریٹ بسنت میں پتنگ بازی اس کا ایک حصہ ہے۔ گڈی اڑانا ایک بہانہ ہے۔ بسنت ایک پارٹی ہے۔ پاکستان میں بسنت کے علاوہ جتنے تہوار ہیں ان میں مذہب کا رنگ غالب ہے اور کھیل تماشے کی وہ گنجائش نہیں جو بسنت میں ہے۔ اب رقص اور گانے کی محفلیں جو بسنت کے موقع پر منعقد کی جاتی ہیں وہ کسی اور تہوار سے مناسبت نہیں رکھتیں۔ روایتی بسنت میں عورتیں شامل نہیں تھیں۔ ستر کے اواخر اور اسی کی دہائی میں لاہور میں برقع کی جگہ چادر اور پھر دوپٹے نے لی۔ مکانوں کی چھتوں پر اکا دکا گھروں کی عورتیں ہی گڈی بازی دیکھنے کچھ دیر کے لیے چھتوں پر آجاتی تھیں۔ اس پر بھی پتنگ بازوں کے دل گڈی سے زیادہ اس چھت پر اٹک جایا کرتے تھے اور لوگ اس مکان کے رخ کی ہوا چل پڑنے کی آرزو کرنے لگتے تھے۔ چھ سات برس پہلے ایک اور اہم بات ہوگئی جب لاہور سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ حکومت بھی ان تقریبات میں شامل ہوگی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس سے پہلے تو حکومت کا بسنت کے بارے میں رویہ اگر معاندانہ نہیں تو غیرجانبدار ہوا کرتا تھا۔ ایوب خان کے زمانے میں بسنت منانے پر پابندی لگائی گئی تو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اے آرکیانی نے اسے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ اب جب نئی بسنت ہے اس میں ایک پہلو یہ ہے کہ اس میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہیں۔ اہل ثروت بسنت میں شامل ہوۓ تو عورتیں بھی بسنت منانے لگیں اور ان کی دیکھا دیکھی اب متوسط طبقہ کی عورتیں بھی بسنت میں شامل ہوگئیں۔ یہ بدلتے ہوۓ پاکستان کا اشاریہ ہے جہاں اگر مدرسے پھیلے ہیں تو بسنت کا فروغ بھی ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||