BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 14:14 GMT 19:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیاریاں مکمل، کاروبار میں مندی

’حالیہ پابندیوں سے پتنگ سازی کا ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے‘
’حالیہ پابندیوں سے پتنگ سازی کا ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے‘
لاہور میں بسنت کا تہوار منانے کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور پتنگ بازی کے شوقین دھڑا دھڑ ڈور اور گڈے خرید رہے ہیں۔

لاہور میں پتنگوں اور ڈور کی فروخت کے لیے معروف بازار موچی دروازہ، اکبری گیٹ،اور موری گیٹ میں آج کل چاند رات کا سماں ہے ۔ ہر کوئی کھوجتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ بازار میں داخل ہوتا ہے اور بسنت کے لیے اعلی قسم کی ڈور اور پتنگوں کے ساتھ واپس گھر لوٹتا ہے۔

اگرچہ پتنگوں اور ڈور کی خریداری گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے لیکن پتنگ بازی کے سامان کے کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ تیزی پتنگ بازی پر لگنے والی پابندی اور بسنت سے پہلے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے اس کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی نہیں کر سکے گي۔

کاروبار میں مندا
 ماضی میں پتنگ سازی کے پیشے سے منسلک بہت ساری لوگوں نے حکومت اقدامات کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے دیگر کام شروع کر دیئے ہیں۔
فراست بٹ

اگرچہ بسنت کے موقع پر حکومت نے ایک ماہ کے لئے پتنگ بازی کی اجازت دے دی ہے تاہم حال ہی میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد حکومتی عہدیداروں کی جانب سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود پتنگ بازی پر پابندی لگائي جا سکتی ہے۔

پتنگ فروشوں کا کہنا ہے کہ حکومتی پابندی کی وجہ سے نہ صرف پتنگ بازی کے سامان کی فروخت بند ہو گئی بلکہ نئے سامان کی تیاری بھی متاثر ہوئی۔

موچي دروازے کے ایک بڑے پتنگ فروش فراست بٹ کہنا ہے کہ ماضی میں پتنگ سازی کے پیشے سے منسلک بہت ساری لوگوں نے حکومت اقدامات کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے دیگر کام شروع کر دیئے ہیں۔

’’حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی پابندی سے پتنگ سازی کا سارا ڈھانچہ ہی تباہ ہو گیا ہے اور اگر حکومت نے کوتاہ اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ پابندی عائد کی تو یہ گھریلو صنعت کبھی بھی دبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی۔‘‘

انہوں نے کہا ہے یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ تین سال قبل پننگ بازی سے متعلق بنائے گئے قانون کو نافذ کرے جس میں تندی اور دھاتی تار کے استعمال کے ذریعے انسانی جان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف پندرہ ہزار روپے جرمانہ اور تین ماہ قید تجویز کی گئی ہے۔

لاہور میں پتنگ فروشی کی وجہ سے معروف ایک اور علاقے موری دروازے میں ڈور کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر محمود احمد کا کہنا ہے کہ اگر چاہے تو حکومت دھاتی تار اور تندی کے استعمال کو روک سکتی ہے لیکن حکومتی ادارے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے سارے کا سارا ملبہ پتنگ فروشوں پرڈال دیتے ہیں۔

لاہور میں بسنت کے حوالے سے سب سے زیادہ سرگرم حکومتی ادارے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل شبیر احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ حکومت پتنگ اور ڈور کا کاروبار کرنے والے افراد کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے لیکن وہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت سے متعلق خود پر عائد ہونے والے ذمہ داریوں سے بھی پہلو تہی نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سالوں میں دھاتی تار کے استعمال اور پتنگ بازی میں درآنے والی دیگر بدعتوں کی وجہ سے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے بلکہ واپڈا کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پی ایچ اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حال ہی میں حکومت کی طرف سے پتنگ بازی کے سلسلے میں دی جانے والی نرمی پتنگ باز طبقے کی آزمائش کا وقت ہے، اگر انہیں نے اس کھیل کی اخلاقیات کی پابندی کی تو ٹھیک وگرنہ پتنگ بازی پر دوبارہ پابندی لگا دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد