BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2004, 18:13 GMT 23:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بسنت ’اغوا‘ کیسے ہوئی

News image
پہلے وقتوں میں صرف استاد جی بڑے پتنگ اّڑا کر شام کلیان پیچا لگاتے تھے۔
پتنگ بازی ایک ایسا کھیل ہے جس کے متعلق نہ تو کسی طرح کے اصول ضوابط مرتب کئے گئے ہیں اور نہ ہی اس سے متعلق قوانین کی کوئی کتاب موجود ہے۔ بسنت منانے کی روایت اور طریقہ سینہ بسینہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہتا ہے۔

تجربہ کار لوگ نوجوان پتنگ بازوں کو جو پہلا سبق پڑھاتےہیں وہ یہ ہے کہ پتنگ بازی کے دوران نہ کوئی جھگڑا ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی فاؤل۔

نئے پتنگ بازوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر کوئی آپ کی ڈور پکڑ لے تو خندہ پیشانی سے پیش آئیں کیونکہ بسنت پیار بانٹنے کا تہوار ہے۔

پتنگ لوٹنا اور دوسروں کی ڈور توڑنا لاہور میں کبھی بھی عزت کا کام نہیں رہا۔ ہر علاقے میں ایک یا دو گھر ایسا کرتے آئے ہیں مگر لوگ انہیں لٹیرے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

طنابوں والی رات
 لوگ بسنت سے قبل رات کو دیر تک جاگتے تھے اور اپنی اپنی گڈیوں کو طنابیں ڈالتے تھے۔ اس رات کو لاہور کی روایت میں طنابوں و الی رات کہا جاتا تھا۔

پہلے زمانے میں یہ لٹیرے لوٹ کے مال سے دوسرے دن بسنت منایا کرتے تھے مگر اب وہ لوٹی ہوئی گڈیوں اور ڈور کو سستے داموں بیچ دیتے ہیں۔

لگ بھگ دو دہائی قبل بسنت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہی منائی جاتی تھی۔ لوگ بسنت سے قبل رات کو دیر تک جاگتے تھے اور اپنی اپنی گڈیوں کو طنابیں ڈالتے تھے۔ اس رات کو لاہور کی روایت میں طنابوں و الی رات کہا جاتا تھا۔

ہنسی مذاق، گڈی اور ڈور کے معیار کی جانچ پڑتال اور کھانے میں کشمیری چائے، دال چاول، گاجر کا حلوہ اور مونگ پھلی اس رات کا خاصا ہوا کرتے تھے۔

نوجوان پتنگ باز بزرگوں کے کہنے پر جلد سو جایا کرتے تھے لیکن اس شرط پر کہ محلے میں سب سے پہلے وہ اٹھیں گے اور بوکاٹا کا نعرہ مستانہ بلند کریں گے۔

بوکاٹا کی یہ صدا محلے میں ہرکارے کا کام کرتی تھی اور جلد ہی دیگر نوجوان پتنگ باز کچھ کھائے پئے بغیر اپنے اپنے گھر کی چھتوں کا رخ کرتے تھے۔ انہیں ناشتہ وہیں مہیا کیا جاتا تھا۔

بچوں کی بسنت عموماً دوپہر تک جاری رہتی تھی اور مہمانوں کی آمد کے ساتھ گھر کے بڑے افراد تیار ہوکر چھت پر پہنچ جاتے تھے۔

اس موقع پر سنجیدہ پتنگ بازی شروع ہو جاتی تھی اور بچوں کو گڈی اڑانے سے باز رہنے کو کہا جاتا تھا تاکہ پیچ خراب نہ ہوں۔

News image
سن اسًی کی دہائی میں بو کاٹا کے نعرے کی جگہ کلاشنکوف کی گڑگڑاہٹ نے لےلی

یہ سلسلہ کھانے اور چائے کے ادوار، ڈھول کی تھاپ، نوجوانوں کے ڈانس اور بوکاٹا کے نعروں کے درمیان شام تک اپنی انتہا کو پہنچتا۔

غروب آفتاب سے کچھ در پہلے جب باقی لوگ تھک جاتے تو محلے سے سب تجربہ کار پتنگ باز یا استاد جی بہت بڑے پتنگ اّڑا کر شام کلیان پیچا لگاتے تھے۔

اس پیچے کو دیکھنا اور اپنے محلے کے استاد کی طرف داری کرنا ایک معمول ہوا کرتا تھا۔ اپنے محلے کے استاد کی فتح اس کے حمایتیوں کی بھی فتح ہوا کرتی تھی۔ شام کلیان پیچ کے دوران پتنگ اڑانا ممنوع سمجھا جاتا تھا۔

غروب آفتاب کے وقت بسنت کے تہوار کو بھنگڑے اور آتش بازی سے رخصت کیا جاتا تھا۔ گھر کے بڑے بانس اور اس پر لگی گڈیاں لوٹنے کے لئے کام آنے والی جھاڑی کی خاردار ٹہنی کو آگ لگا دیا کرتے تھے۔ بعض گھروں میں تو بسنت پر بچ جانے والی ڈور اور گڈیوں کو بھی نذر آتش کر دیا جاتا تھا جو اس بات کا اشارہ ہوا کرتا تھا کہ اس دن کے بعد بچوں نے ساراسال پڑھائی پر توجہ دینی ہے اور نوجوانوں کو روزگار پر۔

لاہور میں بسنت منانے کا جدید دور ہاتھ سے چلنے والے گراموفون کی آمد کے بعد شروع ہوا۔ یہ گراموفون شروع شروع میں کرائے پر ملتے تھے اور اس کو استعمال کرنے والے گھر کا محلے میں رعب ہوتا تھا کیونکہ اس گھر سے بوکاٹا کا نعرہ سپیکر پر لگایا جاتا تھا اور سب سے بلند ہوتا تھا۔ پتنگ بازی میں مزید جدت تب آئی جب دبئی سے لائے گئے ٹیپ ریکارڈروں نے گراموفونوں کی جگہ کے لی اور لاہور کی چھتوں سے شور کا طوفان اٹھنے لگا۔

نائٹ بسنت یا رات کے وقت پتنگ بازی کا آغاز اسی کی دہائی کے میں ہوا۔ بسنت سے پہلے کی طنابوں والی رات کا تصور ختم ہوگیا اور بو کاٹا کے نعرے کی جگہ کلاشنکوف کی گڑگڑاہٹ نے لے لی۔

ہوائی فائرنگ اور آوارہ گولیاں ہر سال سنیکڑوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا باعث بننے لگیں۔ بسنت کی اس دہشت کا سلسلہ تقریباً تین سال قبل تک جاری رہا اور اس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب مشرف حکومت نے اسے سرکاری سرپرستی میں منانا شروع کر دیا۔

غیرملکی سفارت کار، سیاستدان اور دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کے مالک اور عہدیدار بسنت منانے کے لئے لاہور آنے لگے اور حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہوائی فائرنگ کا سلسلہ بند کردیا جائے۔

حکومتی سرپرستی اور سرمایہ دار طبقے کی دلچسپی سے اگر ایک طرف بسنت منانے والوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے تو دوسرے طرف بسنت کے تہوار کو عمومی طور پر اس سے نقصان پہنچا ہے کیونکہ اب یہ ایک سادہ سا موسمی اور روایتی تہوار نہیں رہا بلکہ لاہوریوں کے الفاظ میں اسے اغواء کر لیا گیا ہے۔

لاہور میں مغلیہ دور کی پرشکوہ عمارات میں بڑی بڑی بسنت پارٹیاں منعقد ہوتی ہیں۔ اس پارٹیوں میں رنگ و نور، موسیقی اور حسن و شباب کا ایک طوفان دیکھنے کو ملتا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں پرانے لاہور میں حویلیاں کرائے پر لیتی ہیں جہاں بسنت بڑے سٹائل سے منائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد