BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 February, 2005, 02:20 GMT 07:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بسنت: پتنگیں، موسیقی اور دعوتیں

بسنت
بسنت پر پتنگیں ہی نہیں اڑیں گی، موسیقی بھی گونجے گی اور دعوتیں بھی ہوں گی
سنیچر سے لاہور شہر کا آسمان پتنگوں سے بھر جائے گا رات کو سفید پتنگیں اور دن میں رنگ برنگی پتنگیں آسمان کے حسن میں اضافہ کریں گی۔

رات کو جہاں بسنت منانے والے جہاں ایک دوسرے سے پتنگوں کے پیچوں کا مقابلہ کریں گے وہاں ان کا پیچ سردی سے بھی پڑے گا۔

محرم الحرام کی آمد کے سبب اس سال بسنت کا یہ تہوار جو پہلے فروری کےدوسرے یا تیسرے ہفتے میں منایا جاتا تھا اس سال پہلے ہفتے ہی میں منایا جا رہا ہے اور ابھی تک سردی کا زور نہیں ٹوٹا لہذا اب دیکھنا یہ ہے کہ بسنت کے شوقین جیتتے ہیں یا سردی۔

لاہور کی بسنت کی کشش ایسی ہے کہ ہر سال نہ صرف ملک بھر سے بلکہ دنیا بھر سے لوگ لاہور کھنچے چلے آتے ہیں۔

لاہور کے ہوٹلوں میں ان دنوں کمرہ حاصل کرنا شاید جوئے شیر لانے سے بھی مشکل کام ہے۔

ایک فائیو سٹار ہوٹل کے پبلک ریلیشنز آفیسر کا کہنا ہے کا بسنت میں ان کے کمرے سو فیصد بک ہوتے ہیں اور زیادہ تر مہمان اسلام آباد سے آئے سفارت کار اور حکومتی اہلکار ہوتے ہیں۔ ان تمام بڑے ہوٹلوں کی چھتوں پر بھی بسنت منانے کا اہتمام ہو گا۔

تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد بھی آج کل لاہور میں ہے ان دنوں امریکہ کینیڈا برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں بسنے والے پاکستانی لاہور آ چکے ہیں تاکہ اپنے وطن کے اس خوبصورت اور رنگا رنگ تہوار سے لطف اٹھا سکیں۔

بسنت
رات کو بھی پتنگیں اڑائی جائیں گی

جب سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی لوگوں کی سرحد کے آر پار آمد میں بھی خاصا اضافہ ہوا۔

لاہور کی زبردست بسنت کی کشش کئی ہندوستانیوں کو بھی یہاں کھینچ لائی ہے جن میں زیادہ تر شو بزنس سے تعلق رکھتے ہیں۔

اب تک شترو گھن سنہا، یکتا موکھے،ششی رنجن انو رنجن پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ کچھ اور بھارتی فنکار آج رات کی بسنت شروع ہونے سے پہلے لاہور پہنچ جائیں گے۔

تمام ٹی وی چینلز بھی ہمیشہ کی طرح اس سال بھی بسنت تر خصوصی شوز کا اہتمام کر رہے ہیں جو لوگ خود چھتوں پر چڑھ کر بسنت نہیں مناتے وہ ان شوز کے ذریعے لطف اندوز ہوں گے۔

بسنت ایک ایسا تہوار ہے کہ لوگ اسے اکیلے نہیں منا سکتے۔بسنت پر جو لوگ اخراجات برداشت کر سکتے ہیں وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق رشتے داروں اور دوست احباب کو مدعو کرتے ہیں تاکہ مل کر اس تہوار سے لطف اٹھا سکیں۔

اس بار تو کئی لوگوں نے نائٹ بسنت کی نجی محفلوں کے لیے بھی باقاعدہ دعوت نامے بھی جاری کیے ہیں۔

ان نجی محفلوں میں مہمانوں کے لیے ناصرف پتنگوں اور ڈوروں کا انتطام ہو گا بلکہ طعام اور موسیقی سے بھی ان کی خاطر مدارات ہو گی۔

سنیچر کی رات اور اتوار کے پورے دن میں اربوں روپے کی پتنگیں ہوا میں اڑا دی جائیں گی۔

ہر سال کئی افراد اس تہوار کی بھینٹ بھی چڑھ جاتے ہیں اور ان میں سے اکثر پتنگ اڑانے کے لیے استعمال کی جانے والی دھات کی تار کا شکار ہوتے ہیں۔

تاہم اس بار ضلعی حکومت نے فائرنگ کرنے والوں، تندی اور دھاتی ڈور استعمال کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے ڈیڑھ سو ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو کیمیائی اور دھاتی ڈور استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں گی۔

بسنت
بسنت کی آمد سے بہت پہلے اس کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں

اس کے علاوہ سڑک پر اندھا دھند بھاگنے والوں کے لیے ضلعی حکومت اور ٹریفک پولیس خصوصی اقدامات کرے گی۔

دیکھیں کہ ان حفاظتی اقدامات کا کتنا فائدہ ہوتا ہے اور یہ بسنت خوشیوں کے ساتھ کتنے آنسو چھوڑ کر جاتی ہے۔

بسنت پر خصوصی ضمیمہخصوصی ضمیمہ
رنگا رنگ تہوار بسنت پر خصوصی پیشکش
ہلاکتوں کی داستان
پتنگ بازی موت کا کھیل کیوں بن گئی
بسنت کی قیمت
حادثوں کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے
بے وفا معشوق
بسنت کے تہوار کی دلہن کے اپنے تقاضے
ہم سا ہو تو۔۔۔
لاہور کی بسنت میں ایسا کیا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد