بسنت کے خلاف درخواست خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے بسنت کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کو رد کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ میں مقامی وکلاء نے رٹ درخواستیں دائر کی تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ بسنت ایک غیراسلامی تہوار ہے جسے ایک گستاخ رسول کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس موقع پر فائرنگ اور دھاتی ڈور گلے پر پھرنے سے کئی جانیں چلی جاتی ہیں اور لوگ زخمی ہوجاتے ہیں اس لیے اس پر پابندی لگائی جائے۔ تاہم پنجاب حکومت نے ان رٹ درخواستوں کےجواب میں موقف اختیار کیا تھا کہ بسنت ایک موسمی تہوار ہے۔ قائم مقام ایڈوکیٹ جنرل حنیف کھٹانہ نے عدالت عالیہ کے چیف جسٹس چودھری افتخار کو بتایا کہ حکومت نے بسنت پر ہلڑ بازی ، فائرنگ اور دھاتی تار کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے نفاذ کے لیے بسنت کے روز گشت کرنے کے لیے ایک سو بیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے دونوں رٹ درخواستوں کو نپٹا دیا۔ عدالت عالیہ نے درخواست گزار ایم ڈی طاہر سے کہا کہ انہوں نے انیس سو ننانوے اور سنہ دو ہزار دو میں بھی ملتی جلتی رٹ درخواستیں بسنت کے خلاف دائر کی تھیں۔ ان رٹ درخواستوں میں عدالت نے انہیں ریلیف دیتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ معاملہ بھیج دیا تھا کہ تعین کیا جائے کہ بسنت اسلامی ہے یا غیراسلامی تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہوجائے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ اس لیے اب درخواست گزار کو نظریاتی کونسل کے فیصلہ کے لیے اس کے پاس رجوع کرنا چاہیے تھا۔ لاہور میں چھ فروری کو بسنت منائی جارہی ہے جس کےلیے پورے ملک اور دنیا کے کئی ملکوں سے شائقین شہر میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||