پھر پتنگ، پھر موت پھر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کی کابینہ نے بسنت کے تہوار کے بعد اتوار کو پتنگ بازی پر ایک بار پھر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ بتیس روز میں صوبے میں پتنگ بازی پر دوسری بار پابندی عائد کی گئی ہے۔ اتوار ہی کو لاہور میں ایک اور بارہ سالہ لڑکا پتنگ بازی کے دوران کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا۔ یہ دونوں مرتبہ عائد کی جانے والی پابندی کے تبیس روز کی مدت میں لاہور میں ہونے والی بتیسویں ہلاکت ہے جو پتنگ بازی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اعداو شمار کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ لاہور کے باشندوں نے اوسطاً ہرروز ایک شہری کی جان پتنگ بازی پر قربان کی ہے۔ پنجاب میں پتنگ بازی پر پابندی گزشتہ ماہ عائد کی گئی تھی لیکن جشن بہاراں کے سلسلہ میں ایک ماہ قبل یہ پابندی اٹھالی گئی تھی۔ پابندی کے اٹھائے جاتے ہی پتنگ بازی کے اس شوق کے نتیجے میں ہلاکتیں شروع ہوگئیں اور ہر دوسرے تیسرے روز شہر میں کوئی نہ کوئی اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے۔ جشن بہاراں کے تہوار بسنت کے ایک ہی دن میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہونے کو تو دنیا میں کئی خطرناک کھیل موجود ہیں جن میں انسانی جان جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہوگا اور کھلاڑی اپنی جانوں سے بھی جاتے ہوں گے ہی لیکن پنجاب کی پتنگ بازی ایسا کھیل ہے جو دوسروں کی جان کی قیمت پر کھیلا جاتا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ پاکستانی ایک دوسرے کی جان کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ پتنگ باز کو پتنگ بازی سے منسلک خطرات کا شعور بھی ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جب کیمکل لگی ڈور زمین پر گرتی ہے تو کسی موٹر سائیکل سوار کی گردن کاٹ دیتی ہے اور دھاتی تار گرتی ہے تو اپنے ساتھ کرنٹ کا جان لیوا جھٹکا ساتھ لاتی ہے۔ اس کے باوجود کیمیکل لگی ڈور سے بھی پتنگ بازی جاری ہے اور دھاتی تار سے بھی پتنگیں اڑائی ہی جارہی ہیں۔ کیمیکل اور دھاتی تار سے پتنگ بازی کرنے والوں کے شاید ہوامیں تیرتی پتنگ لوٹنا یا کیمیکل لگی ڈور سے مخالف کی پتنگ کاٹنا کسی بے گناہ کی زندگی سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ مگر مبصریب کا کہنا ہے کہ حکومت کا رویہ بھی کسی ایسے ہی لاپرواہ پتنگ باز جیسا ہی معلوم ہوتاہے۔ گزشتہ برس جولائی میں پتنگ بازی کے اس جان لیوا کھیل پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن پھر جانی نقصان کا باعث بننے والے خطرات دور کیئے بغیر ہی ایک ماہ کے لیے پتنگ بازی پر سے پھر پابندی اٹھا لی گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا اس ایک ماہ کے دوران حکومت کے نزدیک انسانی جان کی قیمت میں کوئی کمی واقع ہوگئی تھی یا حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ لاکھوں افراد کی پتنگ بازی کی خوشی کے لیے چند افراد کی جان کی قربانی دینے میں کوئی حرج نہیں۔ پتنگ بازی کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو اس بات کا اندازہ تھا کہ اس کھیل سے پابندی اٹھائے جانے سے انسانی جانیں ضائع ہوں گی تو اسے یہ پابندی اٹھانی ہی نہیں چاہیے تھی اور اگر پتنگ بازی سے حاصل ہونے والی لاکھوں افراد کی خوشیاں حکومت کو زیادہ عزیز تھیں تو پھر اس پر اب پا بندی کا کوئی جواز نہیں؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||