لاہور میں بسنت شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں بسنت ایک روز پہلے ہی شروع ہوگئی ہے اور پتنگ بازی جس کا آغاز رات کو ہوا کرتا تھا شروع ہوتی تھی دن سے ہی شروع ہوگئی ہے۔ بسنت کا تہوار جو ایک روز کے لیے منایا جاتا تھا اس بار دو دنوں پر پھیل گیا ہے۔ شہر کے اکثر علاقوں میں نوجوانوں نے دوپہر کے بعد ہی سے مکانوں کی چھتوں پر گانے اور موسیقی بجانے کا اہتمام کیا ہوا ہے اور ڈیک اور سٹیریو پر مقبول عام گانے لگے بج رہے ہیں۔ ایک ہنگامے اور ہلہ گلہ کا سماں ہے۔ پتنگ بازی شروع کردی گئی ہے۔ بسنت سے ایک روز پہلے یعنی سنیچر کو بچے یا تو اسکول گئے ہی نہیں یا اسکول سے آتے ہیں پتنگ بازی میں مشغول ہوگئے ہیں۔ شہر بھر میں جگہ جگہ پتنگوں کے خوبصورت بینرز لگے ہیں اور گاڑیوں پر اور کھمبوں پر چھوٹی چھوٹی کاغذ کی پتنگیں سجی ہوئی ہیں۔ پٹرول پم سجائےگۓ ہیں اور کئی پیٹرول کمپنیوں نے سجاوٹ کی پتنگیں بھی تقسیم کی ہیں۔ بسنت کی رات آتش بازی اور ڈھول کا اہتمام کیا گیا ہے اور چھتوں پر فلڈ لائٹس نصب کی جارہی ہیں۔ لاہور میں پیپلز پارٹی سے سیاستدان اور رکن اسمبلی اعتزاز احسن کے گھر پر مختلف ملکوں کے سفیر اسلام آباد سے بسنت منانے کے لیے پہنچ گۓ ہیں۔ ہندوستان سے رکن پارلیمینٹ نجمہ ہیبت اللہ اور صحافی کلدیپ نئیر بھی لاہور میں بسنت کے تہوار منانے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ ایئرپورٹ حکام کے مطابق اس وقت لاہو رمیں جو فلائیٹ آرہی ہے وہ مسافروں سے لدی ہوئی ہے۔ ملک کے دونوں فضائی اداروں ایرو ایشیا او رپی آئی اے نے بسنت کے لیے خصوصی طور پر کراچی سے مسافروں کو لانے کے لیے دو دو پروازیں چلائی ہیں۔ پاکستان ریلوے نے راولپنڈی سے لوگوں کو لاہور لانے کے لیے ایک خصوصی ٹرین چلائی ہے جو رات کو لاہور پہنچے گی۔ ایک اندازے مطابق دو لاکھ افراد دوسرے شہروں سے بسنت منانے کے لیے لاہور آتے ہیں۔ اس وقت لاہور کے نواحی شہروں گوجرانوالہ ، قصور اور شیخوپورہ سے لاہور آنے کے لیے بسوں اور ویگنوں کے اڈوں پر ہجوم کےہجوم کھڑے ہیں لیکن گاڑیاں اتنی تعدا دمیں دستیاب نہیں کہ لوگوں کو لاہور لاسکیں۔ بس کے اڈوں پر دوسرے شہروں سے آنے والوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ ہر شخص کا رخ لاہور کی طرف ہے او رایک سیاب ہے کہ لاہور میں امڈا چلا آرہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||