بسنت چھ فروری کو ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے چھ فروری کو محرم سے پہلے بسنت اور جشن بہاراں منانے کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں بسنت ایک بڑے تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں ملک بھر سے ہی نہیں دنیا کے مختلف ملکوں سے لوگ اس شہر کا رخ کرتے ہیں اور اسلام آباد میں مقیم سفارت کار بھی پتنگ بازی اور بہار سے منسلک اس تہوار کو منانے کے لیے لاہور آتے ہیں۔ اس دفعہ لاہور میں بسنت کی تاریخ موسم بہار اور محرم کے ایّام ایک ساتھ آنے کی وجہ سے تنازعہ کا شکار ہوگئی تھی جسے آج وزیراعلی نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں حل کیا۔ وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی نے لاہور کے ضلعی ناظم میاں عامر محمود اور چیف سیکرٹری پنجاب کامران رسول اور دوسرے اعلیٰ افسروں کے ساتھ اجلاس کرکے فیصلہ کیا کہ بسنت محرم سے پہلے چھ فروری کو منائی جائے گی۔ وزیراعلی کے سرکاری ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ پتنگ بازی کے لیے دھاتی تار کے استعمال کو سختی سے روکا جائے گا اور جس مکان سے ہوائی فائرنگ کی گئی اس کے مالک کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
چھ فروری سے ہی لاہور کا ادارہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی جشن بہاراں کی تقریبات منعقد کرے گا۔ اس سے پہلے اس ادارہ نے بسنت کے لیے پچیس سے ستائیس فروری کی تاریخیں مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ پتنگ بازوں کی ایک تنظیم نے محرم کے ختم ہونے کے بعد تیرہ مارچ کو بسنت منانے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز لاہورکے ضلعی ناظم میاں عامر محمود نے کہا تھا کہ تیرہ مارچ کو موسم گرم ہوجاتا ہے اس لیے بسنت اس تاریخ کو منانا مشکل ہے اور دوسری طرف ستائیس فروری کو لاہورمیں محرم کے سلسلہ میں تین تعزیے نکلتے ہیں اور شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں اس لیے یہ تاریخ بھی مناسب نہیں۔ ضلعی ناظم کا کہنا تھا کہ اس بار بسنت کے موقع پر دوسرے ملکوں کے ارکان پارلیمینٹ اور سفارت کار بھی لاہور آئیں گے اس لیے بسنت کے پروگرام کا اہتمام ضلعی حکومت کرے گی۔ لاہور میں بسنت کے موقع پر ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی بڑے پیمانے پر اس تہوار میں حصہ لیتی ہیں اور شہر کے تمام ہوٹل بہت پہلے سے بُک کرا لیے جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||