ڈھائی کروڑ کی بسنت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بسنت برصغیر پاک وہند میں منایا جانے والا ایک قدیم تہوار ہے اور لاہور کے باسی ہمیشہ سے اس تہوار کو ایک نئے جوش اور نئی ترنگ کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس تہوار کی رنگینی اور دلکشی نے اسے دوسرے علاقائی تہواروں سے ہمیشہ ممتاز رکھا۔ بسنت کا دوسرا نام پتنگ بازی ہے۔ لاہور میں آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیدار مل بیٹھ کر فروری کے کسی ایک ویک اینڈ کو بسنت کا تہوار منانے کے لیے مختص کرتے ہیں اور وہی بسنت کا دن کہلاتا ہے۔ یوں تو بسنت ایک ہی دن کی ہوتی ہے لیکن چند برسوں سے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات سے ہی لاہور کا آسمان پتنگوں سے بھر جاتا ہے تاہم لاہور کے بچے اور نوجوان بسنت کے طے شدہ دن کا انتظار کیے بغیر ہی سردی کی شدت کم ہوتے ہی اپنی اپنی چھتوں پر پتنگیں اور ڈور لے کر چڑھ جاتے ہیں اور خوب مزا کرتے ہیں۔ کچھ برسوں سے بسنت کا یہ مزا کرکرا ہو کر رہ گیا ہےکیونکہ پتنگ باز عام ڈور سے ہٹ کر دھات یا نائلون سے بنی ڈور بھی استعمال کرنے لگے ہیں جو کہ ناصرف انسانی جانوں کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے بلکہ املاک کے نقصان کا بھی سبب بنتی ہے۔ پتنگ بازی تو سالہا سال سے ہو رہی ہے مگر جب سے دھاتی ڈور کا استعمال شروع ہوا ہے سردی کے کم ہوتے ہی جیسے ہی پتنگ بازی کا آغاز ہوتا ہے بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہو جاتی ہے۔ بار بار بجلی کے آنے جانے سے بجلی سے چلنے والی گھریلو اشیاء بھی خراب ہوتی ہیں۔ کبھی بجلی فریج پر تو کبھی ٹی وی سیٹ پر گرتی ہے اور کمپیوٹر استعمال کرنے والے تو بہت ہی تنگ ہوتے ہیں۔ بار بار بجلی جانے سے ان کے کام میں خلل تو پڑتا ہی ہے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ لاہور میں بجلی کی ترسیل کے ذمہ دار ادارے لیسکو کے چیف ایگزیکٹو اکرم ارآئیں کہتے ہیں کہ جب کوئی دھاتی تار بجلی کی تار سے ٹکراتی ہے تو اس پر لوڈ پہلے زیادہ ہو جاتا ہے جس سے ایک دم ولٹیج زیادہ ہوتی ہے اور پھر کم اور بجلی کے اسی کم زیارہ ہونے سے گھریلو الیکٹرک اشیا خراب ہوتی ہیں۔ گھریلو اشیا تو ایک طرف اکرم ارآئیں دھاتی تار کے سبب واپڈا کو ہونے والے نقصان پر سخت نالاں ہیں۔ وہ کہتے ہیں گز شتہ چند برسوں سے بسنت کے دنوں میں واپڈا کو بہت شدید مالی نقصان ہوتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں لاہور میں بجلی کی ٹرپنگ سو مرتبہ ہوتی ہے لیکن جب سردی کے کم ہوتے ہی چھتوں پر پتنگیں اڑنے لگتی ہیں تو یہ ٹرپنگ کی تعداد پندرہ سو ہو جاتی ہے۔ گزشتہ برس صرف بسنت کے دن لاہور میں بارہ ہزار بار ٹرپنگ ہوئی اور ٹرپنگ کے سبب بجلی جانے سے ناصرف واپڈا کی آمدنی کم ہوئی بلکہ واپڈا کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا جس سے گزشتہ سال مجموعی طور پر واپڈا کو ڈھائی کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ لیسکو کے چیف ایگزیکٹو کے بقول اس سال بسنت کا دن آنے سے پہلے ہی واپڈا کو اسی لاکھ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ اکرم ارآئیں نے کہا کہ اس سال ہمارے ادارے نے اپنی تنصیبات کو بچانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ لاہور کے تمام گرڈ سٹیشن پر پیراشوٹ کے کپڑے سے بنے نیٹ بچھائےگئے ہیں تاکہ دھاتی ڈور براہ راست گرڈ سپیشن پر نہ گرے۔ لوگوں کو بجلی کے بلوں کے ہمراہ پمفلٹ بھیجے گئے ہیں جن میں دھاتی ڈور کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اکرم ارآئیں کہتے ہیں کہ ان سب اقدامات کے باوجود بھی بجلی کی ترسیل میں سخت رکاوٹ ہے ان کے خیال میں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں سوائے اس کے کہ پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔ آل پاکستان کائٹ ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر محمد ندیم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دھاتی ڈور پر پابندی کے باوجود اس کے استعمال میں کمی نہیں ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی سے کئی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اس لیے اس پر پابندی لگانا درست نہیں۔ پتنگ بازی فروری اور مارچ کے مہینے میں زیادہ ہوتی ہے اور یہی وہ مہینے ہیں جب لاہور کے کئی سکولوں میں سالانہ امتحانات ہوتے ہیں۔اور بجلی کے جانے سے طالب علمرں کی امتحانات کی تیاری میں خلل آتا ہے۔ آٹھویں جماعت کی طالبہ اھدی معین پتنگ بازی کے سبب بجلی جانے سے سخت پریشان ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اسے بسنت تو اچھی لگتی ہے لیکن بجلی جانے سے اس کی پڑھائی کا جو ہرج ہو رہا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||