بسنت نے تیرہ افراد کی جان لے لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں بسنت کے روز مزید دس افراد پتنگ بازی کے باعث جاں بحق ہوۓ اس طرح چوبیس گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور شہر کے تمام بڑے ہسپتال بسنت کے دوران زخمی ہونے والوں سے بھرے ہوۓ ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق کم ازکم چار سو ہے۔ بسنت کا آغاز سنیچر کی سہ پہر سے ہی ہوگیا تھا اور اتوار کا سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بسنت کو الوداع کر دیا گیا ۔تاہم بسنت کے آغاز سے لیکر اختتام تک جو تیرہ افراد جاں بحق ہوۓ ہیں ان میں سے تین افراد تو سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات کے پہلے حصہ میں ہی دم توڑ گئے تھے۔ لیکن حادثات جاری رہے اور اتوار کی شام ہونے تک مزید دس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان تیرہ افراد میں سے شہ رگ کٹ جانے سے ایک، دھاتی تار کے باعث کرنٹ لگنے سے پانچ، پتنگ لوٹتے ہوۓ ٹریفک حادثوں میں چار، چھت سے گر کر تین افراد ہلاک ہوۓ ہیں۔ ہلاک شدگان کے بارے میں معلومات مختلف ہسپتالوں ، وائرلیس پیغامات ، اور تھانوں سے حاصل ہو سکیں ۔ چند ہلاکتوں کی پولیس نے تصدیق نہیں کی تاہم اس کی وجہ یہ تھی کہ بیشتر افراد کے ورثا نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔ ایس ایس پی آپریشن آفتاب چیمہ نے کہا ہے کوئی بھی ہلاکت ہوائی فائرنگ سے نہیں ہوئی ۔ زیادہ ہلاکتیں دھاتی تار ،چھت سے گرنے اور ٹریفک حادثات میں ہوئیں ۔ اطلاعات کے مطابق کرنٹ لگنے سے ہلاک ہونے والوں میں مسلم ٹاؤن کا دس سالہ بچہ رضوان ، شیرا کوٹ کا دس سالہ ارسلان، شالیمار کا تیس سالہ رکشہ ڈرائیور چاند،گرین ٹاؤن کا بارہ سالہ اشفاق، کوٹ کمبوہ کا محمد رمضان عرف چاند شامل ہیں۔ یہ تمام افراد کٹی پتنگ لوٹتے ہوۓ دھاتی تار کی وجہ سے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوۓ۔ پتنگ بازی کے دوران چھت سے گرکر جان گنوانے والوں میں گوالمنڈی کا سولہ سالہ محمد شریف، کوٹ خواجہ سعید گوجر پورہ کا پندرہ سالہ مصطفیٰ، نیو مسلم ٹاؤن کا آٹھ سالہ محمد صدیق بھی شامل ہیں۔ لاری اڈہ پر ایک نوجوان شبیر،اور کلمہ چوک پر ڈائیو بس اڈے کے نزدیک ایک بیس سالہ نوجوان پتنگ لوٹتے ہوۓ بس تلے آکر جبکہ ملتان روڈ پر ہنجر وال کے نزدیک ساہیوال سے بسنت منانے کے لیے لاہور آنے والا دس سالہ شان اور چونگی کے نزدیک .با رہ سالہ تیمور تیز رفتار کاروں کے نیچے آکر ہلاک ہوگئے ۔ بسنت کی سب سے کم سن موت باغبانپورہ کی ڈیڑھ سالہ رخشندہ کی تھی وہ اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہی تھی جب تیز دھار ڈور نے اس کی شہ رگ کاٹ ڈالی۔ حکومت نے گذشتہ سال ہلاکتوں کے باعث پتنگ بازی پر پابندی عائد کردی تھی لیکن اس برس پسنت کا تہوار منانے کے لیے ایک ماہ کے لیے پابندی اٹھائی گئی تھی۔ اور بیس فروری تک پتنگ بازی کی اجازت دی گئی۔ ایک اندازے کے مطابق اس ایک ماہ کے دوران اب تک دو درجن کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اجازت میں مزید توسیع کا امکان نہیں ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||