BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2004, 03:30 GMT 08:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: بسنت کی رات تین بچے ہلاک

News image
پتنگ کی ڈور سے درخشندہ کا گلا کٹ گیا تھا۔
لاہور میں بسنت نائٹ تین بچوں اور دو سو زخمیوں کی بھینٹ لیکر گزر گئی جبکہ بسنت کا دن جاری ہے۔

بسنت نائٹ پر گلا کٹنے، دھاتی تار سے کرنٹ لگنے اور پتنگ لوٹتے ہوۓ کار سے ٹکرا کر تین بچے ہلاک ہوگئے جبکہ سوا سو سے زائد افراد زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے۔

سنیچر کے روز پتنگ بازی کا پہلا شکار ڈیڑھ سال کی بچی درخشندہ تھی جو گلا کٹ جانے سے ہلاک ہوئی۔

محمود بوٹی باغبانپورہ کا رہائشی بنک ملازم ندیم اپنی بیوی شگفتہ اور دو بچوں پانچ سالہ زمان اور اور ڈیڑھ سالہ درخشندہ کے ہمراہ موٹر سائیکل پر رشتہ دار سے ملنے بند روڈ شفیق آباد جا رہے تھے۔ بچی موٹر سائیکل پر سب سے آگے ٹینکی پر بیٹھی تھی کہ اچانک تیز دھار ڈور اس پر آگری اور والد کے موٹر سائیکل روکنے تک ڈور اس کا گلا کاٹ چکی تھی۔

اس کا والد اسے میاں منشی ہسپتال پہنچا لیکن بچی اس کی بانہوں میں ہی دم توڑ چکی تھی۔

تھانہ نواں کوٹ کے ڈیوٹی افسر نے بتایا کے کوٹ کمبوہ کےارشد کا سات سالہ بیٹا محمد رمضان عرف چاند دھاتی تار سے پتنگ اڑا رہا تھا کہ ہوا کی رفتار کم ہوئی اور پتنگ قریبی ہائی وولٹیج تاروں پر جا گری اسے زور دار جھٹکا لگا جس سے وہ جاں بحق ہوگیا۔

ملتان روڈ پر چونگی کے نزدیک بارہ سالہ بچہ تیمور پتنگ لوٹنے کے دوران بھاگتا ہوا سڑک پر آگیا اس کا سارا دھیان کٹی پتنگ کی طرف تھا اور وہ تیز رفتار کار کی زد میں آگیا۔اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔

علاوہ ازیں ہسپتالوں کے ریکارڈ کے مطابق بسنت نائٹ پر میو ہسپتال میں پچیس، جناح ہسپتال میں بائیس، گنگا رام میں تیرہ، سروسز ہسپتال میں بیس، میاں منشی ہسپتال میں چودہ، شیخ زائد ہسپتال میں نو، اتفاق ہسپتال میں آٹھ اور جنرل ہسپتال میں تیس افراد پتنگ بازی کے مختلف حادثات میں زخمی ہوکر پہنچے ہیں۔

سنیچر کی شام شروع ہونے والی بسنت اتوار کے دن بھی جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کے حادثات کا شکار ہوکر ہسپتال پہنچنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بسنت نائٹ اور ڈے پر ہر سال تین سے دس تک افراد ان حادثات کا شکار ہو کر ہلاک ہوجاتے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہر سال سینکڑوں میں ہوتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد